ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل برپا ہے کیوں کہ ایک جانب ایم کیو ایم پاکستان نے شہری سندھ کے حقوق کے تحفظ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے مطالبے پر 26 جولائی سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب پارٹی کے رہنماؤں کے متضاد بیانات نئی سیاسی بحث کو ہوا دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

حال ہی میں وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے ایک انکشاف نے بھی کراچی کی سیاسی فضا کو گرما دیا۔ ان کے مطابق سابق میئر کراچی وسیم اختر کو گورنر سندھ بنانے کی سفارش ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے خود کی تھی تاہم بعد میں انہوں نے وزیراعظم سے اس فیصلے پر عمل نہ کرنے کی درخواست بھی کی۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اہم سیاسی فیصلوں پر ہمیشہ مکمل اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔

دوسری جانب خالد مقبول صدیقی مسلسل پیپلز پارٹی پر سندھ کے اقتدار پر اجارہ داری قائم رکھنے، مہاجروں کے حقوق سلب کرنے اور کراچی پر ’مصنوعی قیادتیں‘ مسلط کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ تاہم ان بیانات کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر سے سامنے آنے والے مختلف مؤقف اور رہنماؤں کے بیانات نے خود ایم کیو ایم کی سیاسی حکمت عملی اور داخلی ہم آہنگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزید پڑھیے: خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟

وی نیوز نے جب کراچی کے مختلف علاقوں میں شہریوں سے اس صورت حال پر رائے لی تو بیشتر افراد نے اسے شہری سندھ کے حقوق کی جدوجہد کے بجائے سیاسی طاقت اور اقتدار کی کشمکش قرار دیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں جبکہ شہر کے عوام آج بھی پانی کی قلت، بدترین ٹریفک، ٹوٹی سڑکوں، صفائی کے ناقص نظام اور دیگر بنیادی سہولتوں کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔

کئی شہریوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ہر چند سال بعد کراچی کے حقوق اور مہاجر شناخت کے نعرے تو بلند کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر شہر کے دیرینہ مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کے پائیدار حل کے بجائے اقتدار کی سیاست میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کیوں لڑ رہے ہیں؟

سیاسی مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر اپنے روایتی سیاسی بیانیے کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے تاہم پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کی بازگشت بھی واضح طور پر سنائی دے رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مجوزہ احتجاجی تحریک واقعی شہری سندھ کے حقوق کے حصول کی کوشش ہے یا پھر یہ پارٹی کے اندر جاری اختلافات اور بدلتی سیاسی صف بندیوں کا اظہار ہے۔ اس سوال کا واضح جواب آنے والے دنوں کی سیاسی پیشرفت ہی دے سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک جانے کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرض، حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سینیئر اداکارہ روبینہ اشرف کا خواتین کے شوہر اور سسرالیوں کے لیے اہم پیغام

دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

حکومت سے مذاکرات ناکام، گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کردیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر