ایک ہی دوا مختلف قیمتوں پر کیوں فروخت ہوتی ہے؟ ڈریپ نے وجہ بتا دی

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں ایک ہی دوا مختلف میڈیکل اسٹورز پر مختلف قیمتوں میں فروخت ہونے کا معاملہ مریضوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ایک ہی دوا کے نرخوں میں ہزاروں روپے کے فرق نے نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے اہلخانہ کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ ادویات کی قیمتوں کے تعین اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے صحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت، ڈریپ لیبارٹری کو ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفیکیشن حاصل

پلیٹ لیٹس کی کمی کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ’الٹروم‘ اس کی نمایاں مثال بن گئی ہے۔ مختلف فارمیسیوں پر یہی دوا 15 ہزار روپے سے لے کر 30 ہزار روپے تک فروخت کی جا رہی ہے جس کے باعث یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ایک ہی دوا کی قیمت میں آخر اتنا بڑا فرق کیوں ہے اور اس کی نگرانی کون کر رہا ہے؟

اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے وی نیوز نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) سے رابطہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ملک میں ادویات کی قیمتوں کا تعین کس طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے اور ایک ہی دوا مختلف فارمیسیوں پر مختلف قیمتوں میں کیوں فروخت ہوتی ہے۔

ڈریپ کے ڈائریکٹر پرائسنگ ڈاکٹر امان اللہ نے وی نیوز کو بتایا کہ ڈریپ صرف ان ادویات کی زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت (ایم آر پی) پر عملدرآمد یقینی بناتا ہے جنہیں حکومت ضروری (ایسینشل) ادویات قرار دیتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ان ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمت مقرر کرتی ہے تاہم اگر کوئی کمپنی چاہے تو وہ اپنی دوا مقررہ قیمت سے کم نرخ پر بھی فروخت کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: ڈریپ نے ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کی تردید کردی

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے کسی دوا کی زیادہ سے زیادہ قیمت 100 روپے مقرر کی ہے تو ایک کمپنی اسے 70 روپے میں جبکہ دوسری 40 روپے میں بھی فروخت کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ڈریپ کی ذمہ داری صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی کمپنی حکومت کی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے زائد رقم وصول نہ کرے۔

ڈاکٹر امان اللہ نے بتایا کہ پاکستان میں متعدد ایسی ادویات بھی موجود ہیں جن کی قیمت حکومت نے مقرر نہیں کی۔ ایسی ادویات کے نرخ طے کرنے کا اختیار ڈریپ کے پاس نہیں ہوتا جس کے باعث ان کی قیمتیں مختلف کمپنیوں، درآمدی لاگت اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی بیشتر ادویات بھی حکومتی قیمتوں کے نظام کے تحت ریگولیٹ نہیں ہوتیں۔ اانہوں نے مزید کہا کہ ایسی ادویات کی فروخت کی قیمت ہر میڈیکل اسٹور یا فارمیسی اپنی تجارتی پالیسی کے مطابق مقرر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہی دوا مختلف مقامات پر مختلف قیمتوں میں دستیاب ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ: ملکی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے پالیسی کی منظوری سمیت اہم فیصلے

ڈریپ حکام کے مطابق درآمدی ادویات خریدتے وقت صارفین کے پاس مختلف قیمتوں پر دستیاب مصنوعات میں سے اپنی استطاعت اور ترجیح کے مطابق انتخاب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مریض ایک ہی دوا 10 ہزار روپے میں خرید لیتے ہیں جبکہ دوسرے مریض اسی دوا کے لیے 15 ہزار، 20 ہزار یا حتیٰ کہ 30 ہزار روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم آزاد کشمیر کے قافلے میں شامل پولیس گاڑی حادثے کا شکار، ایک اہلکار جاں بحق، متعدد زخمی

تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، بلوں میں 1 روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر

ٹروتھ سوشل کا نیا فیچر: بینکوں اور ٹریڈنگ کمپنیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس پہلے ملیں گی

سعودی ایئرلائن نے پشاور میں نیا دفتر کھول دیا

ویڈیو

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون