۔
۔
۔
۔
۔
۔
مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی جانے والی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی خواتین کے لیے ایک نئے اور سنگین خطرے کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ میں ایک خاتون نے پہلی بار اپنا خوفناک تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان کی اجازت کے بغیر ان کا چہرہ ایک فحش ویڈیو پر لگا کر سوشل میڈیا پر پھیلا دیا گیا۔
30 سالہ کیٹ آئزکس (Kate Isaacs)، جو بغیر رضامندی فحش مواد کے خلاف #NotYourPorn مہم چلاتی ہیں، نے بتایا کہ ایک روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) استعمال کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی ویڈیو نظر آئی جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کا چہرہ ایک فحش اداکارہ کی ویڈیو پر لگا دیا گیا تھا، جس سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ خود اس ویڈیو میں موجود ہوں۔
کیٹ کا کہنا تھا کہ ویڈیو دیکھتے ہی وہ شدید صدمے میں آ گئیں۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوا جیسے ان کی شناخت، عزت اور ذاتی زندگی سب کچھ ایک لمحے میں چھین لیا گیا ہو۔ انہیں خوف تھا کہ یہ ویڈیو تیزی سے انٹرنیٹ پر پھیل جائے گی اور لوگ اسے حقیقت سمجھ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیے اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کی ڈیپ فیک تصویر وائرل، سخت وارننگ جاری
انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کے نیچے سینکڑوں توہین آمیز اور دھمکی آمیز تبصرے کیے گئے، جن میں انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے، حملے کی ویڈیو بنانے اور اسے آن لائن شائع کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ بعد ازاں ان کے گھر اور دفتر کے پتے بھی انٹرنیٹ پر شیئر کر دیے گئے، جس کے باعث انہیں اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی کے حوالے سے شدید خوف لاحق ہو گیا۔
کیٹ کے ایک ساتھی نے ویڈیو، دھمکی آمیز تبصروں اور ذاتی معلومات کی اشاعت کی شکایت سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی، جس کے بعد یہ مواد ہٹا دیا گیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک بار کوئی ڈیپ فیک ویڈیو انٹرنیٹ پر آ جائے تو اسے مکمل طور پر ختم کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں ڈیپ فیک کا نشانہ زیادہ تر معروف شخصیات اور سیاست دان بنتے تھے، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ سائبر سکیورٹی کمپنی Deeptrace کے مطابق دنیا بھر میں بننے والی تقریباً 96 فیصد ڈیپ فیک ویڈیوز بغیر رضامندی کی فحش ویڈیوز ہوتی ہیں، جن کا زیادہ تر نشانہ خواتین بنتی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک ایسے شخص سے بھی خفیہ طور پر بات کی جو ڈیپ فیک فحش ویڈیوز تیار کرتا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ پہلے صرف مشہور شخصیات کی جعلی ویڈیوز بناتا تھا، لیکن بعد میں اپنی ساتھی خواتین اور دیگر عام خواتین کی بھی ڈیپ فیک ویڈیوز تیار کرنے لگا۔ اس کا کہنا تھا کہ خواتین کی سوشل میڈیا تصاویر اور ویڈیوز اس مقصد کے لیے کافی ہوتی ہیں اور اب یہ کام چند جدید ایپس کے ذریعے بہت آسان ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی ڈیپ فیک فحش ویب سائٹس میں سے ایک پر ہر ماہ تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد آتے ہیں، جبکہ اس پر بیک وقت تقریباً 20 ہزار جعلی ویڈیوز موجود ہوتی ہیں۔ ویب سائٹ چلانے والے شخص نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ پہچاننا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کون سی ویڈیو اصلی ہے اور کون سی مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ڈیپ فیک رومانس، خاتون ساڑھے 3 لاکھ ڈالرز سے محروم
ماہرین کے مطابق ڈیپ فیک پورنوگرافی دراصل تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے جنسی استحصال کی ایک نئی شکل ہے، جس میں کسی فرد کی اجازت کے بغیر اس کی شناخت استعمال کر کے جعلی فحش مواد تیار کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین اور ضوابط اس تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
کیٹ آئزکس کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسی ایپس میں حفاظتی نظام متعارف کرانا چاہیے جو فحش مواد کی شناخت کر کے اس کی تیاری کو روک سکیں۔ ان کے مطابق اگر کمپنیاں اپنی ایپس کو جنسی استحصال کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتیں تو وہ بھی اس مسئلے کی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ان کی صحت، ذہنی سکون اور دوسروں پر اعتماد کو شدید متاثر کیا، تاہم وہ اس مہم سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اب پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ خواتین کے تحفظ اور ڈیپ فیک کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں گی۔













