امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبا، تبادلہ پروگرام کے شرکا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا کی مدت سے متعلق نئے قواعد متعارف کرا دیے ہیں، جس کے تحت کئی دہائیوں سے جاری وہ پالیسی ختم کردی گئی ہے جس کے تحت انہیں تعلیم یا پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھنے تک امریکا میں رہنے کی اجازت حاصل تھی۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے نئے ضابطوں کے مطابق زیادہ تر غیرملکی طلبا اور تبادلہ پروگرام کے شرکا کو زیادہ سے زیادہ 4 سال کے لیے ویزا دیا جائے گا، جبکہ غیر ملکی صحافی ایک مرتبہ میں عموماً 240 دن تک امریکا میں قیام کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
نئے قواعد کے تحت چین سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے قیام کی مدت صرف 90 دن ہوگی، جبکہ اس سے زیادہ عرصہ امریکا میں رہنے کے خواہش مند افراد کو ویزا میں توسیع کے لیے درخواست دینا ہوگی یا پھر امریکا چھوڑ کر دوبارہ ویزا حاصل کرنا ہوگا۔
یہ قواعد سرکاری گزٹ میں اشاعت کے 60 روز بعد نافذ ہوں گے، تاہم اس سے قبل کانگریس کی جانب سے ان کا جائزہ لیا جائے گا۔
محکمہ داخلی سلامتی نے اس تجویز کے ابتدائی اعلان کے وقت کہا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے طویل عرصے تک غیر ملکی طلبہ اور دیگر ویزا رکھنے والوں کو عملی طور پر غیر معینہ مدت تک امریکا میں رہنے کی اجازت دی، جس سے سکیورٹی خدشات پیدا ہوئے، سرکاری وسائل پر بوجھ بڑھا اور امریکی شہریوں کے مفادات متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟
محکمے کے مطابق نئے قواعد سے ویزا رکھنے والوں کی بہتر نگرانی ممکن ہوگی۔ اعداد و شمار کے مطابق سن 2000 سے 2010 کے درمیان طالب علم کی حیثیت سے امریکا آنے والے 2 ہزار 100 سے زائد افراد اب بھی طالب علم کے درجے پر موجود ہیں۔
دوسری جانب جامعات اور امیگریشن کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئی پابندیوں سے امریکا بین الاقوامی طلبہ، محققین اور اساتذہ کے لیے پہلے کی نسبت کم پُرکشش ہوسکتا ہے۔













