اسلامی مطالعات کے شعبے میں دنیا کے ممتاز ترین غیر مسلم ماہرین میں شمار کیے جانے والے امریکی اسکالر پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ان کے اہل خانہ اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 15 جولائی کو انتقال کر گئے۔
پروفیسر ایسپوزیٹو نے اپنی نصف صدی سے زائد طویل علمی زندگی اسلام کے بارے میں مغربی دنیا میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مسلمانوں و مغربی معاشروں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلاموفوبیا کے خلاف برطانوی بچے کی مہم، مسجد نبویؐ تک جا پہنچی
انہوں نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں اور ہزاروں طلبہ کی رہنمائی کی۔
1940 میں نیویارک کے علاقے بروکلین میں پیدا ہونے والے جان ایسپوزیٹو نے معروف فلسطینی نژاد امریکی مسلم مفکر ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی سے تعلیم حاصل کی، جن کے اثرات نے ان کی پوری علمی زندگی کو تشکیل دیا۔
John L. Esposito, the internationally renowned Georgetown University scholar whose work transformed the study of Islam, interfaith relations and Muslim–West relations, has died at the age of 86.https://t.co/PyCy9RRVUg pic.twitter.com/QrYvhVHO69
— Maktoob (@MaktoobMedia) July 16, 2026
انہوں نے ہمیشہ اسلام کو مغربی تعصبات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کی اپنی تعلیمات اور تناظر میں پیش کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے تقریباً 2 دہائیوں تک میساچوسٹس کے کالج آف دی ہولی کراس میں عالمی مذاہب کی تدریس کی اور شعبۂ مذہبیات کے سربراہ بھی رہے۔
بعد ازاں وہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی باقی ماندہ علمی زندگی گزاری۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں وہ مذہب، بین الاقوامی امور اور اسلامی مطالعات کے یونیورسٹی پروفیسر رہے۔
John Esposito, scholar of Islam and professor at Georgetown. A friend to the Muslim world for his balanced scholarship and bridge building between West and Islam, has died.
“Indeed we belong to God, and indeed to Him we shall return” Quran 2:156 pic.twitter.com/1Ey7wPKUmf
— Falasteen (@falastineisme) July 16, 2026
1993 میں انہوں نے سینٹر فار مسلم-کرسچین انڈرسٹینڈنگ کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں پرنس الولید بن طلال سینٹر فار مسلم-کرسچین انڈرسٹینڈنگ کا نام دیا گیا۔
ان کی قیادت میں یہ ادارہ بین المذاہب مکالمے کے عالمی مراکز میں شمار ہونے لگا، بعد ازاں انہوں نے برج انیشی ایٹو بھی قائم کیا، جو اسلاموفوبیا پر تحقیق اور اس کے تدارک کے لیے کام کرتا ہے۔
پروفیسر ایسپوزیٹو نے اپنے کیریئر کے دوران 50 سے زائد کتابیں تصنیف، تدوین یا مشترکہ طور پر تحریر کیں، جن کا ترجمہ 35 زبانوں میں ہو چکا ہے۔
ان کی 2007 میں شائع ہونے والی کتاب ’ہو اسپیکس آف اسلام‘، جسے انہوں نے دالیا مجاہد کے ساتھ مشترکہ طور پر تحریر کیا، دنیا بھر میں مسلمانوں کی رائے عامہ پر سب سے مستند تحقیقی مطالعات میں شمار کی جاتی ہے۔
I mourn today the passing of a dear friend, Professor John L. Esposito, one of the world’s foremost scholars of Islam. I first came to know John in the early 1970s, and our friendship endured for more than five decades since.
John built the intellectual foundations for a deeper… pic.twitter.com/Wwn1G5sS7e
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) July 16, 2026
اس تحقیق میں 35 سے زائد مسلم اکثریتی ممالک میں 50 ہزار سے زیادہ افراد کے انٹرویوز شامل تھے۔
وہ دی آکسفورڈ ہسٹری آف اسلام اور آکسفورڈ ڈکشنری آف اسلام اور آکسفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف دا اسلامک ورلڈ جیسے اہم علمی منصوبوں کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔
اگرچہ پروفیسر ایسپوزیٹو زندگی بھر ایک عملی کیتھولک مسیحی رہے، تاہم وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اپنے مذہب سے گہری وابستگی دوسرے مذاہب کے احترام میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
وہ مڈل ایسٹ اسٹڈیز ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا اور امریکن اکیڈمی آف ریلیجن کے صدر بھی رہے۔ انہیں مذہب کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے پر مارٹن ای مارٹی ایوارڈ جبکہ اسلامی مطالعات میں نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے قائداعظم ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: نیویارک کے میئر امیدوار ظہران ممدانی کو ابتدائی جیت کے بعد اسلاموفوبیا کا سامنا
ان کی وفات پر مسلم دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات سامنے آئے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم نے کہا کہ ان کی پروفیسر ایسپوزیٹو سے 5 دہائیوں پر محیط دوستی تھی۔
انہوں نے انہیں مغرب میں اسلام کی بہتر تفہیم کی مضبوط علمی بنیاد رکھنے والا محقق اور ’اسلامی دنیا کا حقیقی دوست‘ قرار دیا۔
فلسطینی نژاد امریکی محقق سامی العریان نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک قریبی دوست ہی نہیں بلکہ اپنے عہد کے عظیم ترین اسکالر اور انسان دوست شخصیت کو کھو دیا ہے۔

سامی العریان کے بقول، پروفیسر ایسپوزیٹو نے دیواروں کے دور میں پل تعمیر کیے۔
امریکا کی سب سے بڑی مسلم شہری حقوق کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف خصوصی سفیر کی تقرری، پاکستان کا خیر مقدم
تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیہاد عوض نے کہا کہ پروفیسر ایسپوزیٹو نے ایسے دور میں اسلام اور مسلمانوں کی درست تصویر پیش کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کی، جب غلط معلومات اور تعصب عوامی مباحثے پر غالب تھے۔
پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ ڈاکٹر جینیٹ پی ایسپوزیٹو شامل ہیں۔














