امریکا کے ایران میں حالیہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے روز بھی اضافے کے ساتھ ٹریڈ کر رہی ہیں، جس کے باعث پاکستان میں بھی آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 85 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات نے عالمی منڈی میں بے یقینی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث گزشتہ چند روز کے دوران تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کتنے باقی؟ این سی ایم سی اجلاس میں جائزہ، منافع خوروں کی حرکت پر اظہار تشویش
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے ساتھ پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔
پاکستان میں بھی اس عالمی صورتحال کے باعث آئندہ قیمتوں کے جائزے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 20 سے 30 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ اوگرا کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت کرے گی، جس کا اعلان جمعہ کی شب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے گندم اور پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
یاد رہے کہ گزشتہ مرتبہ بھی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 13.18 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔













