دنیائے کرکٹ کے ‘کنگ’ اور تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ویسٹ انڈیز کے اس مایہ ناز کرکٹر کے انتقال پر پوری کھیل کی دنیا سوگوار ہے، جنہیں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے ورسٹائل اور باصلاحیت کھلاڑی مانا جاتا ہے۔
ایک اوور میں 6 چھکے، وہ تاریخی ریکارڈ جو امر ہو گیا
سر گیری سوبرز کا نام سنتے ہی ذہن میں 1968 کا وہ تاریخی منظر گھوم جاتا ہے جب انہوں نے گلیمورگن کے سینٹ ہیلنز گراؤنڈ (سوانسی) میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایک اوور کی 6 مسلسل گیندوں پر 6 چھکے جڑ کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:جب وزیر محمد نے آسٹریلیا کے خلاف ہارا ہوا میچ جتوایا، سابق ٹیسٹ کرکٹر کے کیریئر پر ایک نظر
اگرچہ ان کا طویل کیریئر بے شمار کامیابیوں سے سجا ہے، لیکن یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے کرکٹ کی تاریخ میں امر کر دیا۔

آسٹریلین لیجنڈ رچی بینو کا خراجِ تحسین، وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے
آسٹریلیا کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رچی بینو نے ایک بار سوبرز کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’سوبرز دنیا کے بہترین آل راؤنڈ کرکٹر تھے۔
وہ ایک شاندار بلے باز، وکٹ کے قریب ترین فیلڈنگ کرنے والے لاجواب فیلڈر اور ایک ایسے جادوئی باؤلر تھے جو نئی گیند سے سوئنگ کرنے کے ساتھ ساتھ آرتھوڈوکس لیفٹ آرم اسپن اور کلائی کے مروڑ سے ’اوور دی رسٹ‘ اسپن باؤلنگ کرنے کی غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔‘
محض 16 سال کی عمر میں ڈیبیو اور پاکستان کے خلاف 365 رنز کا ورلڈ ریکارڈ
سر گیری سوبرز نے صرف 16 برس کی عمر میں 1953 میں بارباڈوس کی طرف سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اگلے ہی سال ویسٹ انڈیز کی قومی ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔

انہوں نے عالمی کرکٹ پر اپنی دھاک اس وقت بٹھائی جب 1958 میں پاکستان کے خلاف کھیلتے ہوئے انہوں نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کو 365 رنز (ناٹ آؤٹ) کی تاریخی اننگز میں بدل دیا۔
یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور بن گیا، جسے بعد میں 1994 میں ان ہی کے ہم وطن برائن لارا نے توڑا۔
’جیٹ ایج‘ اور تھکن، 38 سال کی عمر میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ
سوبرز نے اپنے معیار کے دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں 1974 میں صرف 38 برس کی عمر میں نسبتاً جلدی ریٹائرمنٹ لے لی۔
وزڈن نے ایک سال بعد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ماضی کے کئی عظیم کھلاڑی ان سے کہیں زیادہ عرصے تک کھیلے، لیکن سوبرز ذہنی اور جسمانی طور پر اس کھیل سے تھک چکے تھے جو کبھی ان کی زندگی تھا۔
مزید پڑھیں:ٹینس کے عظیم کھلاڑی نوواک جوکووچ نے آسٹریلین اوپن سیمی فائنل میں ریٹائرمنٹ لے لی
ان کا ایک گھٹنا بھی خراب تھا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور ‘جیٹ ایج’ (تیز رفتار ہوائی سفر کے دور) کا شکار ہوئے۔

چونکہ وہ سب کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اس لیے ان سے ضرورت سے زیادہ کام لیا گیا اور تیز رفتار طیاروں نے انہیں چند دنوں میں آدھی دنیا کا سفر کرنے پر مجبور کیا، جبکہ ماضی کے طویل سمندری سفر کھلاڑیوں کو تروتازہ ہونے کا موقع دیتے تھے۔
عددی ریکارڈز اور سر کا خطاب
سر گیری سوبرز نے ویسٹ انڈیز کے لیے 93 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں انہوں نے 57.78 کی شاندار اوسط سے 8,032 رنز بنائے اور 34.03 کی اوسط سے 235 وکٹیں حاصل کیں۔ 5,000 سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں ان کی بیٹنگ اوسط ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی سب سے بہترین اوسط ہے۔

اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں انہوں نے ساؤتھ آسٹریلیا اور ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے 383 میچز میں 28,000 سے زیادہ رنز اسکور کیے اور 1,000 سے زیادہ وکٹیں لیں۔
کرکٹ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات پر انہیں 1975 میں ‘نائٹ ہوڈ’ (سر) کے خطاب سے نوازا گیا اور آج بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سال کے بہترین مرد کرکٹر کو ‘سر گارفیلڈ سوبرز ٹرافی’ پیش کرتی ہے۔














