خیبرپختونخوا میں پولیس کے مبینہ سیاسی استعمال کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا۔ وزیراعلیٰ کے پی کے سامنے ایک پولیس افسر نے کھل کر شکایات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سیاسی سرگرمیوں کے دوران ڈیوٹیاں انجام دینے پر اسے تشدد، گرفتاریوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس کے باوجود اسے اس کا جائز حق نہیں ملا۔
خیبرپختونخوا میں پولیس کے مبینہ سیاسی استعمال سے متعلق ایک تقریب کے دوران اس وقت غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک پولیس افسر نے وزیراعلیٰ کے پی کے سامنے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعدد شکایات پیش کر دیں۔
خیبرپختونخواپولیس کاغیر قانونی طور پر سیاسی استعمال،پولیس افسر وزیراعلیٰ کے سامنے پھٹ پڑا‼️
خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے پولیس اور دیگراداروں کے سیاسی استعمال کے ناقابل شواہد تواتر سے سامنے آرہے ہیں
خیبرپختونخوا پولیس نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے پولیس کے سیاسی استعمال کا… pic.twitter.com/NZIw2fvQdP
— INFO TRACKS (@Info_Tracks) July 17, 2026
پولیس افسر نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے بنی گالہ میں مار کھائی، سابق وزیراعلیٰ کی وجہ سے جیلوں میں گیا، زمان پارک میں بھی تشدد برداشت کیا اور اسلام آباد پولیس نے بھی گرفتار کرکے جیل بھیجا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان خدمات کا بہتر صلہ نہیں دیا جا سکتا تو کم از کم انہیں وہ حقوق ضرور دیے جائیں جن کے وہ حقدار ہیں۔
پولیس افسر نے مزید بتایا کہ بروقت ریسکیو نہ ہونے کے باعث ان کے 2 جوان شہید ہوئے، جبکہ ہزار روپے ماہانہ راشن الاؤنس میں اہلکاروں کے لیے گزارا کرنا بھی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج: کے پی پولیس کے وسائل استعمال ہوئے یا نہیں؟ تحقیقات جاری
اس موقع پر ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت پر پولیس اور دیگر اداروں کے سیاسی استعمال کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ اس واقعے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف صوبائی وسائل جلسوں، احتجاجی قافلوں اور سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پولیس اہلکار محدود مراعات اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہیں، جس پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔














