افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت میں اختلافات اب بند کمروں سے نکل کر عوامی سطح پر آ گئے ہیں۔ طالبان کے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی نے ایک تقریب سے خطاب میں ایسے ریمارکس دیے جنہیں مبصرین نے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور دیگر سینیئر رہنماؤں پر بالواسطہ تنقید قرار دیا ہے، جس سے طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی دھڑے بندی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔
افغان طالبان کے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی نے قندھار میں ایک فوجی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اقتدار میں نہ رہے تو کچھ وزرا اگلے ہی دن ٹائی پہن لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ان کے اس بیان کو مبصرین نے طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سمیت ان رہنماؤں پر تنقید قرار دیا ہے جن پر نسبتاً معتدل مؤقف اختیار کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان طالبان کی اعلیٰ قیادت میں بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اب نظریاتی وابستگی اور قیادت سے وفاداری کے معاملات بھی کھلے عام زیر بحث آنے لگے ہیں۔ ان کے بقول یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان اعتماد کے فقدان اور اقتدار کی اندرونی کشمکش کی علامت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کو درپیش شدید معاشی بحران، انسانی مسائل اور بین الاقوامی تنہائی کے باوجود طالبان قیادت کی توجہ داخلی اختلافات، نظریاتی سخت گیری اور اقتدار کی رسہ کشی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان دور میں افغان میڈیا شدید بحران کا شکار، صحافیوں پر دباؤ میں اضافہ
ماہرین کے مطابق طالبان طویل عرصے سے مکمل اتحاد کا تاثر دیتے رہے ہیں، تاہم حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کے اندر مختلف طاقت کے مراکز اور شخصی وفاداریاں نمایاں ہو رہی ہیں، جو مستقبل میں طالبان حکومت کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام پہلے ہی معاشی بدحالی، بے روزگاری اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ طالبان قیادت کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے بجائے اندرونی اختلافات اور اقتدار کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔














