اپنے ہی انتخابی حلقے سے شکست کھا گئے تو پھر کبھی الیکشن نہیں لڑیں گے، وزیراعظم آزاد کشمیر

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے ہی انتخابی حلقے سے شکست کھا گئے تو پھر پوری زندگی کبھی الیکشن نہیں لڑیں گے، کیونکہ وزیراعظم کے منصب سے بڑا کوئی عہدہ نہیں اور اس کے بعد کسی اور سیاسی منصب کی خواہش باقی نہیں رہتی۔

ضلع حویلی کے حلقے کالامولا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ریاست کی خدمت کا موقع دیا ہے اور وہ اس ذمہ داری کو عوامی فلاح و بہبود کے ذریعے ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بننا صرف محنت کا نہیں بلکہ اللہ کے فضل اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو عام معافی دینے کا امکان مسترد کردیا

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے معاشرہ برادری، قبیلے اور خاندانوں کی بنیاد پر تقسیم ہو چکا ہے، حالانکہ یہ تقسیم ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص کی اصل شناخت اس کے کردار، خدمت اور علاقے سے ہونی چاہیے، نہ کہ برادری یا قبیلے سے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے انتہائی مشکل سیاسی حالات میں حکومت سنبھالی، ایسے وقت میں جب ریاست میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی اور نفرتیں پھیلائی جا رہی تھیں، تاہم انہوں نے ریاست میں امن، ترقی اور عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ریاست بھر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا، تعلیمی منصوبے شروع کیے گئے، مختلف سرکاری ملازمین کے مسائل حل کیے گئے اور ایسے طبقات کی امیدیں بحال کی گئیں جو مایوسی کا شکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا تاکہ مسائل افہام و تفہیم سے حل ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آج بھی احتجاج پر ہے، لیکن شدید تنقید کے باوجود انہوں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بات سنی گئی اور آج بھی حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پالیسی اپنائی ہے تاکہ عوامی مسائل خوش اسلوبی سے حل ہوسکیں۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آج ریاست بھر کے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم ہاؤس کا رخ کررہے ہیں اور حویلی کے عوام کی سیاسی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے حالات میں عوام نے صرف برادری یا ذاتی اختلافات کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو یہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے مخالفین سے بھی کوئی ذاتی اختلاف نہیں، ہمیشہ وعدوں کی پاسداری کی اور سیاست میں بھی اسی اصول پر عمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ لوگوں کو جوڑنے کی سیاست کی، اسی لیے مختلف برادریوں اور قبائل کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مضبوط اور مستحکم پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اسمبلی کے بجٹ میں حویلی کے لیے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے۔ انہیں بتایا گیا کہ ایک ہی حلقے کے لیے اتنے منصوبوں پر دیگر ارکان اسمبلی اعتراض کر سکتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کام انہوں نے وزیراعظم ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کرائے کیونکہ یہ ان کے حلقے کے عوام کا حق تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے میں دانش اسکول، سڑکوں کی تعمیر، یونیورسٹی، درجنوں اسکولوں کی منظوری، سائنس کالج اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ کالامولا یونین کونسل میں بنیادی مرکز صحت، مختلف سرکاری اسکولوں کی عمارتیں، سڑکوں، پلوں اور دیگر منصوبوں پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کے ذریعے بھی متعدد ترقیاتی سکیمیں مکمل کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مزید موقع دیا تو آئندہ 3 برسوں میں صرف حویلی ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کو ترقی کی نئی مثال بنا دیں گے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام اتحاد برقرار رکھیں اور معمولی ناراضیوں یا ذاتی اختلافات کی وجہ سے اجتماعی مفاد کو نقصان نہ پہنچائیں۔

یہ بھی پڑھیں: موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ یہ انتخاب ان کی ذات کا نہیں بلکہ حویلی کے مستقبل، ترقی اور عزت کا انتخاب ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے اپنے حلقے کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا تو وہ اسے اپنا آخری الیکشن تصور کریں گے اور آئندہ کبھی انتخابی میدان میں نہیں اتریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کو دفتری اوقات کے بعد بھی مصنوعی ذہانت سیکھنی چاہیے؟

سردار تنویر الیاس کے قافلے پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح کارندوں کا حملہ، ذاتی محافظ جاں بحق، متعدد افراد زخمی

بلوغت جیسے موضوعات پر بچوں کو کھل کر گائیڈ کریں، معروف ماڈل ونیزہ کا والدین کو مشورہ

انیقہ معراج ‘مس ورلڈ’ مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں

ایس سی او بارڈر سروسز سربراہان کا اجلاس: سرحدی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون