معروف دفاعی اور خارجہ امور کے تجزیہ نگار اکرام سہگل کی نئی کتاب ’نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی: اے پرسنل کرونیکل آف پاکستان‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی جس میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کا تقاضا، سنسنی خیزی مسترد
تقریب میں بتایا گیا کہ کتاب کا انتساب شریف فیملی کے نام کیا گیا ہے جن میں نشان حیدر میجر عزیز بھٹی، نشان حیدر میجر شبیر شریف اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف شامل ہیں۔
سعودی عرب میں قائم 43 ممالک پر مشتمل اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن (آئی ایم سی ٹی سی) کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی ایک نہایت پیچیدہ موضوع ہے۔
جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ آرمی کی سربراہی کے ان کے دور میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی جبکہ اکرام سہگل کی یہ بات درست ہے کہ قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی اور سماجی پہلو بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
انہوں نے کتاب کا انتساب اپنے خاندان کے نام کرنے پر اکرام سہگل کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس موقعے پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان اس وقت متعدد مشکلات سے دوچار ہے اور ملک کو مسائل کے عملی حل کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: پاک بحریہ نے ہمیشہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ذمہ داریاں نبھائیں، صدر مملکت آصف زرداری
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا اصل مطلب عوام کا تحفظ اور ان کے مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ریاست اپنے شہریوں کے مسائل حل کر رہی ہے تو یہی حقیقی قومی سلامتی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا کوئی معجزاتی حل موجود نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی ہی ملک کے مسائل کا واحد پائیدار حل ہے۔
انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے دور میں انتہائی بڑے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا جو کسی بھی لحاظ سے معمولی نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ان چیلنجز پر قابو پایا گیا تاہم اس جنگ میں پاک فوج کے متعدد جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں غیر قانونی وی پی اینز قومی سلامتی کے لیے کثیر الجہتی خطرہ قرار
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فوج کوئی تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ جذبے کے تحت جوائن کی جاتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمان اپنے حالیہ ریمارکس کی وضاحت کریں گے۔














