امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں:کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کردی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ خصوصاً آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے قیمتوں کو مزید سہارا دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر قریباً 88 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
🇺🇸🇮🇷 The Strait of Hormuz is a warzone and Ukraine’s drone campaign is targeting Russia’s oil exports out of the Black Sea.
That’s why fuel prices are at a one-month high in the U.S., with gas at $3.97 per gallon and diesel at $5.05.
Unfortunately, it’ll likely get worse…
— China V (@China_V7) July 17, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور اقتصادی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی نظریں اب خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور تیل کی سپلائی پر مرکوز ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کی توانائی کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔













