امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کو ’ختم‘ قرار دینے کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام امریکی معیشت کے لیے سنگین معاشی خطرات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ عالمی تیل کی رسد ایک مرتبہ پھر متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح تک گر گئی تھیں۔ آبنائے ہرمز جزوی طور پر کھلنے سے خلیج فارس میں رکا ہوا خام تیل دوبارہ عالمی منڈیوں تک پہنچنا شروع ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی آنا شروع ہوگئی تھی۔
تاہم ماہرین کے مطابق صرف 3 ہفتوں کی محدود جنگ بندی دنیا کو درپیش تاریخ کے سب سے بڑے تیل بحران کے اثرات ختم کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ اس مختصر عرصے میں امریکا اپنے ہنگامی اور تجارتی تیل کے ذخائر مطلوبہ سطح تک بحال نہیں کر سکا، جس کے باعث کسی نئے بحران کی صورت میں امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے ایران پر دوبارہ حملہ کر دیا، تہران کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ابھی یہ واضح نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں تازہ حملے عارضی کشیدگی ہیں یا مکمل جنگ کا آغاز، تاہم صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر دوبارہ امریکی بحری ناکہ بندی عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز فی الحال کھلی ہوئی ہے، لیکن جہاز رانی شدید خطرات کے باوجود جاری ہے۔
تیل کے ماہر اینڈی لیپو کے مطابق گزشتہ 3 ہفتوں میں تقریباً 20 کروڑ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز سے گزر کر عالمی منڈی تک پہنچا، جو دنیا کی تقریباً 2 روزہ مجموعی طلب کے برابر ہے۔ تاہم اس میں تقریباً 6 کروڑ بیرل ایرانی تیل بھی شامل تھا، جس پر امریکا نے دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہو گئی تو امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ہنگامی ضرورت پوری کرنے کے لیے ان ذخائر سے مسلسل تیل نکالا جا رہا ہے، جس کے باعث امریکی ہنگامی ذخائر کم ہو کر 31 کروڑ 95 لاکھ بیرل رہ گئے ہیں، جو 1983 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
دوسری جانب اوکلاہوما کے شہر کشنگ میں موجود امریکا کے اہم تجارتی تیل کے ذخائر بھی تشویشناک حد تک کم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان ذخائر میں مزید کمی ہوئی تو ملک بھر کی ریفائنریوں کو خام تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا، ایران کشیدگی کے اثرات، فضائی سفر مہنگا: 45 فیصد امریکیوں نے چھٹیاں منانے کا فیصلہ منسوخ کر دیا
صدر ٹرمپ بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ جی سیون اجلاس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اگر جنگ طویل ہوتی تو امریکا کو ’معاشی تباہی‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
ادھر تازہ کشیدگی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی احتیاط کا رجحان دیکھا گیا۔ امریکی بانڈز کی 10 سالہ پیداوار بڑھ کر 4.57 فیصد تک پہنچ گئی، جو مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 78 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل دوبارہ متاثر ہوئی تو نہ صرف امریکی بلکہ عالمی معیشت کو بھی مہنگائی، توانائی کے بحران اور سپلائی چین میں نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔














