نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اپنی تنخواہ میں 18 فیصد اضافے کی پیشکش مسترد کر دی، جس کے بعد ان کی آمدن اور خاندانی پس منظر ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا۔ سیاسی مخالفین نے انہیں ’نیپو بے بی‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے خوشحال خاندانی پس منظر کی وجہ سے ایسے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اپنی سالانہ تنخواہ میں 18 فیصد اضافے کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد ان کی مالی حیثیت اور خاندانی پس منظر پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیلر سوئفٹ نے شادی کی سیکیورٹی کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر ادا کیے، میئر ظہران ممدانی
تنخواہ میں اضافے کے بعد ان کی سالانہ آمدن 3 لاکھ 5 ہزار 800 ڈالر ہو جاتی، تاہم انہوں نے اضافہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی کسی شہری نے یہ شکایت نہیں کی کہ ’میئر کی تنخواہ کم ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وسائل ان لوگوں پر خرچ ہونے چاہییں جو معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
ممدانی کے اس فیصلے کو بعض حلقوں نے سراہا، تاہم ان کے سیاسی مخالفین نے انہیں ’نیپو بے بی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوشحال اور بااثر خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ ایسے علامتی فیصلے کرنے کے قابل ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ بھی اپنی صدارتی تنخواہ خیراتی مقاصد کے لیے عطیہ کرتے رہے ہیں، اس لیے ممدانی کے فیصلے کو غیر معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق ظہران ممدانی کے والدین، معروف فلم ساز میرا نائر اور مصنف و پروفیسر محمود ممدانی کی مجموعی دولت کا تخمینہ 20 لاکھ سے ایک کروڑ ڈالر کے درمیان لگایا جاتا ہے، جبکہ فوربز افریقہ کے مطابق 2025 میں ظہران ممدانی کی ذاتی دولت تقریباً 2 لاکھ ڈالر تھی۔
34 سالہ ظہران ممدانی کی بطور میئر سالانہ تنخواہ اب بھی 2 لاکھ 58 ہزار 750 ڈالر رہے گی، جبکہ اس سے قبل ریاستی قانون ساز کی حیثیت سے وہ ایک لاکھ 42 ہزار ڈالر سالانہ تنخواہ وصول کرتے تھے۔
واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز کے مطابق ’نیپو بے بی‘ سے مراد ایسے افراد ہیں جو دولت مند، بااثر یا معروف خاندانوں میں پیدا ہونے کے باعث زندگی اور پیشہ ورانہ میدان میں اضافی مواقع اور سہولتیں حاصل کرتے ہیں۔














