گل پلازہ سانحہ: تفتیشی افسر کی تبدیلی، تحقیقات پر اٹھنے والے سوالات کیا نئی سمت اختیار کریں گے؟

اتوار 19 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے گل پلازہ سانحے کی تحقیقات ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ اس بار وجہ سابق تفتیشی افسر کی جگہ نئے تحقیقاتی افسر کی تعیناتی ہے۔ عدالتی کارروائی کے بعد کیس کی تحقیقات اب ڈی ایس پی عامر وڑائچ کے سپرد کردی گئی ہیں، جس کے بعد یہ سوال دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے کہ کیا نئی تفتیش سانحے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر سکے گی اور کیا اس مقدمے میں عدالت کی جانب سے سامنے لائی گئی خامیوں کو دور کیا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں: ’بیٹا! اس کیس کو کیوں فالو کرنا ہے؟‘ گل پلازہ سانحہ اور عدالت کا تاریخی فیصلہ

گل پلازہ سانحہ، جس میں 73 افراد جان کی بازی ہار گئے، کراچی کی حالیہ تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے کے بعد مختلف سطحوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا، سندھ حکومت نے ایک جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود کمیشن کی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آ سکی، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں، قانونی حلقوں اور شہریوں کی جانب سے مختلف سوالات اب بھی موجود ہیں۔

ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس سانحے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کس حد تک ہو سکا ہے۔

دوسری جانب مجسٹریٹ کی عدالت میں ہونے والی کارروائی نے بھی تحقیقات کے معیار پر توجہ مبذول کرائی۔ عدالتی کارروائی کے دوران سابق تفتیشی افسر سے مختلف سوالات کیے گئے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہ بعض بنیادی امور پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے، جن میں مختلف اداروں کے دائرہ اختیار اور ذمہ داریوں سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔ اسی کارروائی کے دوران عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایک اہم انکوائری رپورٹ پہلے سے پولیس ریکارڈ کا حصہ تھی، جس کے بارے میں ابتدائی طور پر مختلف مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔

اسی تفتیش کی بنیاد پر پولیس نے جو چالان عدالت میں پیش کیا تھا، اس میں ایک 11 سالہ بچے، اس کے والد اور پلازہ انتظامیہ سے وابستہ چند افراد کو نامزد کیا گیا۔ اس چالان کے سامنے آنے کے بعد قانونی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا تحقیقات کا دائرہ صرف فوری طور پر نامزد افراد تک محدود رہا، یا ان اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا جن پر عمارتوں کی نگرانی، فائر سیفٹی انتظامات اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے چالان میں موجود خامیوں کی متعدد بار نشاندہی کی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے حکم میں اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیقات صرف واقعے کے فوری اسباب تک محدود نہیں ہونی چاہییں بلکہ اس امر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ آیا متعلقہ اداروں کی جانب سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی تو نہیں برتی گئی۔ انہی نکات کی بنیاد پر عدالت نے چالان مسترد کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا حکم دیا اور کیس نئے تحقیقاتی افسر کے سپرد کر دیا۔

اب جبکہ ڈی ایس پی عامر وڑائچ نے بطور تحقیقاتی افسر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ نئی تحقیقات عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو کس حد تک مدنظر رکھتی ہیں۔

خاص طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا تحقیقات کا دائرہ صرف فوری ذمہ داروں تک محدود رہتا ہے یا واقعے سے متعلق ادارہ جاتی ذمہ داریوں، حفاظتی نظام، متعلقہ محکموں کے کردار اور ممکنہ غفلت کے تمام پہلوؤں کا بھی جامع جائزہ لیا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے میں آئندہ پیشرفت نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم ہوگی بلکہ یہ مستقبل میں ایسے سانحات کی تحقیقات کے معیار اور ادارہ جاتی جوابدہی کے حوالے سے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نئی تحقیقاتی ٹیم سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ عدالت کی ہدایات کے مطابق شواہد، سرکاری ریکارڈ اور تمام متعلقہ پہلوؤں کا ازسرِنو جائزہ لے گی تاکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان

گل پلازہ سانحے میں انصاف کا تقاضا صرف ذمہ داروں کے تعین تک محدود نہیں بلکہ ایسی جامع، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات بھی ہیں جو مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

شنگھائی میں عالمی اے آئی کانفرنس، جدید ہیومنائیڈ روبوٹس اور ذہین مشینیں توجہ کا مرکز

کینیڈا میں ٹِک سے پھیلنے والی خطرناک بیماری ایناپلاسموسس میں اضافہ، ماہرین نے خبردار کردیا

لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ، ملزم اسلحے سمیت گرفتار

اورائن نیبولا میں پوشیدہ ساخت دریافت، سائنسدانوں نے کائنات سے متعلق اہم راز بے نقاب کر دیا

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ