اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

اتوار 19 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے اردن میں ایرانی حملے میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کے بعد ایران پر نئے فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو کشیدگی بڑھانے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد جاری یہ تازہ جھڑپیں مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ہفتہ کی شام ایرانی اہداف پر فضائی کارروائی کی گئی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنا اور اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی صلاحیت کو نشانہ بنانا تھا۔

دوسری جانب  جنوبی ایران کے شہر سیریک کے قریب امریکی حملہ کیا گیا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

امریکی حکام کے مطابق جمعہ کو ہونے والے ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہوا، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد 16 جبکہ زخمیوں کی تعداد 420 سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ فوجیوں کی قربانی امریکا کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی اور کشیدگی بڑھا کر ثابت کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے وعدوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو مزید ذلت اور بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے خلاف امریکی حملے مزید تیز، ٹرمپ کی نئی دھمکیوں سے کشیدگی میں اضافہ

ادھر ایران نے امریکا کے خلیجی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ کویت کی مسلح افواج کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روکا گیا، تاہم بعض حملوں میں آئل تنصیبات کو نقصان پہنچا اور امدادی کارروائیوں میں مصروف عملے کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں امریکی فوجی مرکز کیمپ عریفجان اور علی السالم ایئر بیس کے ریڈار نظام کو نشانہ بنایا۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی طیاروں کے اجتماع اور انٹیلیجنس مرکز پر حملہ کیا گیا، جبکہ اردن کے الازرق ایئر بیس پر میزائل اور ڈرون حملے میں دو امریکی جنگی طیارے اور 3 دیگر طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم رائٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی حملوں میں ملک بھر میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہرمزگان صوبے میں تازہ امریکی بمباری سے 3 افراد ہلاک، 8 زخمی اور دو پلوں سمیت ایک سرنگ کو نقصان پہنچا۔

ایران نے امریکا پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ وہاں بحری ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس لیے کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

دریں اثنا یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بحری جہاز رانی میں مداخلت اور حملے بند کرے، آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھلا رکھے اور خطے میں مزید کشیدگی سے گریز کرے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور دیگر غیر متوقع خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میانمار کا 3 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی پر آمادگی کا دعویٰ

بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر سمیت ناگالینڈ، آسام اور منی پور میں یوم سیاہ کی کال

علمی سرقہ اسکینڈل میں’گرفتار‘ کیمبرج کے سابق پروفیسر کی پُراسرار موت

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پہلے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘: کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیسے ہوگا؟

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی