کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

ہفتہ 18 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی پورٹ پر اس ہفتے ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ایک جدید بحری جہاز سے ایک، دو یا 100 نہیں بلکہ 2 ہزار سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں اتاری جانے لگیں۔ بظاہر یہ ایک معمول کی درآمدی کھیپ لگ سکتی ہے، لیکن ماہرین کے نزدیک یہ صرف گاڑیوں کی آمد نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ، بندرگاہیں اور درآمدی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

یہ گاڑیاں ایم وی گرانڈے شنگھائی (MV Grande Shanghai) نامی رول آن، رول آف (RoRo) جہاز کے ذریعے کراچی گیٹ وے ٹرمینل پہنچیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیاں اسی جدید شپنگ سسٹم کے تحت درآمد کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹیرف میں نرمی، چینی الیکٹرک گاڑیاں عالمی مقابلے میں مزید مضبوط

آخر یہ RoRo سسٹم ہے کیا؟

اگر آپ نے کبھی گاڑی کو پارکنگ پلازہ میں ریمپ کے ذریعے اوپر یا نیچے جاتے دیکھا ہے تو RoRo شپنگ بھی قریباً اسی اصول پر کام کرتی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں پارکنگ پلازے کی جگہ ایک بحری جہاز ہوتا ہے۔ گاڑیوں کو کرینوں سے نہیں اٹھایا جاتا بلکہ وہ براہِ راست ریمپ کے ذریعے جہاز کے اندر داخل ہوتی ہیں اور منزل پر پہنچ کر اسی طرح باہر آ جاتی ہیں۔ اسی لیے اسے Roll-on/Roll-off (RoRo) کہا جاتا ہے۔

اس طریقے سے نہ صرف وقت بچتا ہے بلکہ کرینوں پر انحصار کم ہوتا ہے، گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں اور شپنگ کی لاگت بھی نسبتاً کم رہتی ہے۔

صرف گاڑیاں نہیں، ایک بدلتی ہوئی مارکیٹ

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا ذکر تو بہت ہوتا رہا، لیکن اب اس کے عملی آثار بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔

ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتیں، ماحول دوست ٹیکنالوجی، کم مینٹیننس اخراجات اور نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی نے صارفین کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں اور درآمد کنندگان بھی بڑی تعداد میں نیو انرجی وہیکلز منگوا رہے ہیں۔

’بی وائی ڈی‘ سمیت مختلف عالمی برانڈز کی بڑھتی سرگرمیاں بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

وزیر بحری امور نے کیا کہا؟

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے اس پیشرفت کو پاکستان کی بحری تجارت کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔

ان کے مطابق RoRo نظام کے ذریعے پہلی مرتبہ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی پورٹ جدید شپنگ اور لاجسٹکس سہولیات کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے پاکستان کی تجارتی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔

’یہ صرف ایک کامیابی نہیں، کئی کامیابیوں کا تسلسل ہے‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی پورٹ مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کررہا ہے۔

چند روز قبل دنیا کے بڑے کنٹینر جہازوں میں شمار ہونے والا MSC ERICA بھی کراچی پورٹ پہنچا تھا، جسے پاکستان کی بندرگاہی صلاحیت میں اضافے کی علامت قرار دیا گیا۔

اس سے بھی بڑی خبر یہ ہے کہ کراچی پورٹ نے مالی سال 2025-26 کے دوران 5 کروڑ 50 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کر کے اپنی 138 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق یہ کامیابی بندرگاہ پر بڑھتی سرگرمیوں، بہتر آپریشنل صلاحیت اور جدید سہولیات کا نتیجہ ہے۔

اس کا فائدہ عام آدمی کو کیا ہوگا؟

شاید فوری طور پر سڑکوں پر ہزاروں نئی الیکٹرک گاڑیاں نظر نہ آئیں، لیکن ایسی بڑی درآمدات مستقبل کی مارکیٹ کا رخ ضرور طے کرتی ہیں۔

اگر الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد مسلسل بڑھتی رہی تو مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا، نئے ماڈلز متعارف ہوں گے، چارجنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور طویل مدت میں صارفین کے لیے بہتر انتخاب کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اسی طرح جدید شپنگ نظام سے درآمدی عمل تیز ہونے کی صورت میں کاروباری لاگت کم ہو سکتی ہے، جس کے مثبت اثرات آٹو سیکٹر سمیت دیگر شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

کیا کراچی پورٹ خطے کا بڑا تجارتی مرکز بن رہا ہے؟

پاکستان کی قریباً تمام سمندری تجارت کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر بندرگاہیں جدید شپنگ سسٹمز، ڈیجیٹل کسٹمز، بہتر ٹرمینلز اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت حاصل کر لیں تو نہ صرف ملکی تجارت مضبوط ہوگی بلکہ پاکستان خطے کے اہم لاجسٹکس مراکز میں بھی اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بڑی خوشخبری، حکومت نے سستی الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا

2 ہزار سے زیادہ الیکٹرک گاڑیوں کی پہلی RoRo شپمنٹ، دنیا کے بڑے کنٹینر جہازوں کی آمد اور 138 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ کارگو ہینڈل کرنے کا ریکارڈ یہی بتا رہا ہے کہ کراچی پورٹ اب صرف ایک بندرگاہ نہیں رہا، بلکہ پاکستان کی بدلتی ہوئی تجارتی اور معاشی سمت کی ایک اہم علامت بنتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

سانحۂ اے پی ایس سے برطانوی فٹبال ٹیم تک، عمر نواز کی ناقابلِ یقین کامیابی کی داستان

انگلینڈ نے فرانس کو 4-6 سے شکست دیکر تیسری پوزیشن اپنے نام کرلی،  10 گولوں کا نیا ریکارڈ قائم

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

گل پلازہ سانحہ: تفتیشی افسر کی تبدیلی، تحقیقات پر اٹھنے والے سوالات کیا نئی سمت اختیار کریں گے؟

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری