پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا یہ اہم ترین الیکشن ہے، گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے۔
آزاد کشمیر کے شہر کوٹلی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے اپنے منشور کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام سے وعدہ کیا۔ پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ دینے پر گلگت بلتستان کے عوام کا مشکور ہوں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی کو مقررہ وقت پر ہوں گے، چیف الیکشن کمشنر نے افواہوں کو مسترد کردیا
حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار دلواؤں گا
بلاول بھٹو نے کہا کہ الیکشن جیت کر عوام کو حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار دلواؤں گا۔ چاہتا ہوں کہ لاڑکانہ کے ایم این اے کے ساتھ کشمیر کا ایم این اے بھی قومی اسمبلی میں میرے ساتھ بیٹھا ہو۔
انہوں نے کہاکہ ہم آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے۔ ایک ہی جماعت ہے جو روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔
کشمیر کے فیصلے کشمیر کے عوام کریں
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کا منشور ہے کہ کشمیر کے فیصلے کشمیر کے عوام کریں۔ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات سے ہر کوئی پریشان ہے جبکہ احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو سزا دے رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے مطالبہ کیاکہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورت حال پر ایک ٹروتھ کمیشن بنایا جائے اور جب تک ٹروتھ کمیشن نہ بن جائے احتجاج ختم کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ ہم مل کر آزاد کشمیر کے مسائل حل کریں گے اور ہمیں مل کر کشمیر کے حالات بہتر کرنے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا پورا خطہ ہڑپ کرنے کے درپے ہے، تاہم وہ عالمی فورمز پر کشمیریوں کا دفاع کرتے ہوئے مودی حکومت کو بھرپور جواب دیتے رہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں اور مودی سرکار کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بے بنیاد الزامات کا مقابلہ کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ کشمیری عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، جنوبی ایشیا میں امن کے لیے تنازعات کا منصفانہ حل ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: کشمیر انتخابات: انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل، الیکشن کمیشن تیار
بلاول بھٹو نے کارکنوں سے اپیل کی کہ چوہدری یاسین کو دونوں نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا جائے۔
انہوں نے کہاکہ دونوں حلقوں کی انتخابی ذمہ داری چوہدری یاسین کے سپرد کر دی گئی ہے، جنہوں نے مشکل حالات میں بھی دونوں نشستیں کامیابی سے جیتیں۔












