چین کے دارالحکومت بیجنگ کی معروف اور قدیم تعلیمی درسگاہ پیکنگ یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی تدریس کا سفر سات دہائیوں سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جہاں آج بھی ہر سال طلبہ پاکستان کی زبان، ثقافت اور تاریخ سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے شعبہ اردو میں داخلہ لیتے ہیں۔
پیکنگ یونیورسٹی کی شعبۂ اردو کی پروفیسر، جن کا پاکستانی نام طاہرہ ہے، نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو 1954 میں قائم کیا گیا تھا، اور یہ اعزاز بھی اسی جامعہ کو حاصل ہے کہ چین میں باقاعدہ اردو ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے والی یہ پہلی یونیورسٹی تھی۔
مزید پڑھیں:احمد ندیم قاسمی کا آخری انٹرویو
انہوں نے بتایا کہ شعبہ اردو میں ہر سال گریجویشن پروگرام کے لیے 10 سے 15 طلبہ داخلہ لیتے ہیں، جبکہ رواں تعلیمی سال میں 11 طلبہ اردو زبان کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
پروفیسر طاہرہ کے مطابق شعبے میں صرف اردو زبان نہیں پڑھائی جاتی بلکہ طلبہ کو پاکستان کی ثقافت، تاریخ، جنوبی ایشیا کے سیاسی و سماجی حالات اور پاک چین تعلقات سے متعلق بھی آگاہ کیا جاتا ہے، تاکہ وہ پاکستان کو ایک جامع تناظر میں سمجھ سکیں۔
انہوں نے کہاکہ طلبہ کی دلچسپیاں مختلف ہوتی ہیں۔ بعض طلبہ اردو شاعری سے خصوصی شغف رکھتے ہیں، جبکہ کچھ پاکستان کی ثقافت، تاریخ اور اردو زبان کی اہمیت جاننے میں دلچسپی لیتے ہیں۔
پاک چین دوستی کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر طاہرہ نے کہاکہ ہم نے اپنے بچپن سے یہی سنا اور سیکھا ہے کہ پاکستان چین کا بہترین دوست ہے۔ دونوں ممالک نے ہر
مزید پڑھیں:سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک
مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، اور یہی دوستی نئی نسل کو بھی قریب لا رہی ہے۔
پیکنگ یونیورسٹی کا شعبہ اردو نہ صرف زبان سکھانے کا مرکز ہے بلکہ یہ پاک چین عوامی روابط، ثقافتی ہم آہنگی اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔













