مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا، جبکہ برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔
برینٹ خام تیل کے سودے 2.69 ڈالر یا 3.05 فیصد اضافے کے بعد 90.79 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جو 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کی قیمت میں قریباً 15.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اپریل کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد مہنگا ہو گیا
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 2.19 ڈالر یا 2.65 فیصد بڑھ کر 84.68 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو 12 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ امریکا نے مسلسل نویں رات ایران پر حملے کیے، جبکہ امریکا کے اتحادی ممالک کویت اور بحرین نے بھی ایرانی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
دونوں ممالک نے حالیہ دنوں میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا بھر میں سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا قریباً 20 فیصد سنبھالتی ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھا دی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بھی اطلاع دی ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب کمزار کے شمال مغرب میں ایک بحری جہاز میں آگ لگ گئی۔
مزید پڑھیں: خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
بارکلیز کے تجزیہ کار امرپریت سنگھ کے مطابق آئندہ چند دن اور ہفتے یہ واضح کریں گے کہ دو طرفہ بحری ناکہ بندی کے باعث خطے سے تیل کی برآمدات کس حد تک متاثر ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل کی منڈی اس بحران کے ممکنہ اثرات کو اب بھی کم اندازہ لگا رہی ہے، جبکہ عالمی ذخائر گزشتہ پانچ برسوں کی کم ترین سطح کے قریب ہیں۔
ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو صرف 4 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 8 تھی، جو خطے میں بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔













