امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی اور تیل کے مراکز کو نشانہ بنانے کے انتباہ کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں سنسنی خیز اضافہ ہوا ہے۔
بدھ کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 5 فیصد تک بڑھ گئیں، جس کے نتیجے میں دونوں بڑے بینچ مارک 22 جون کے بعد اپنی 2 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے تازہ ترین اعداد و شمار
تجارتی سیشن کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3.81 ڈالر، یا ‘5.14 فیصد’ اضافے کے بعد 77.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کا بحران، جنگ بندی خطرے میں پڑنے کے خدشات سے تیل مہنگا ہو گیا
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 3.36 ڈالر، یا ‘4.77 فیصد’ اضافے کے ساتھ 73.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل منگل کو بھی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جب امریکا نے ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا عمومی لائسنس منسوخ کیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا سخت مؤقف اور خارگ جزیرے کو نشانہ بنانے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب ختم ہو چکی ہے‘۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ تہران کے ساتھ مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں، جبکہ خبردار کیا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید حملے کر سکتا ہے اور خلیج فارس میں واقع ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز، ’خارگ جزیرے‘، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سپلائی کے خدشات اور ماہرین کی آرا
واضح رہے کہ امریکی صدر کے اس سخت مؤقف نے سرمایہ کاروں میں سپلائی کے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں:جنگ بندی پر خدشات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ایس ای بی ریسرچ کے معروف تجزیہ کار اولے ہولبائے نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کسی سفارتی حل کی توقع کر رہی تھی، تاہم ایران کے خلاف دوبارہ سخت بیانات نے قیمتوں کو یکدم اوپر دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اب بھی معمول کے مطابق بحال نہیں ہو سکی ہے، جبکہ دوسری طرف ’او ای سی ڈی ‘ممالک کے تیل کے ذخائر اس وقت گزشتہ 23 برس کی کم ترین سطح پر ہیں۔














