ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں مزید تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فوجیوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، سفارتی کامیابیوں کے دعووں اور قلیل مدتی سیز فائر (جنگ بندی) کے ناکام ہونے پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال ایران کے خلاف اپنی طویل مدتی حکمتِ عملی پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
حالیہ ہلاکتیں اور زمینی صورتحال
بلومبرگ اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی حالیہ رپورٹس میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں 3 امریکی فوجی لقمہ اجل بنے ہیں۔ ان میں سے 2 فوجی جمعہ کے روز اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے دفاع کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ ایک اور امریکی فوجی ہفتے کے روز شمالی عراق میں مارا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ عراقی سرحد کے پاس گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے دوران ہونے والے دھماکے میں اس فوجی کی جان گئی۔ اس کے علاوہ ایک امریکی اہلکار اب بھی لاپتہ ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف اور ٹرمپ کا ردعمل
بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے باوجود امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم جاری رہے گی۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’ہمارے فوجیوں کی قربانیاں ہمارے ارادوں کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے امریکا کے ایران پر مسلسل نویں رات بھی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو شدید نقصان، تہران کا دعویٰ
سیاسی محاذ پر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال کوئی باضابطہ جنگی حکمتِ عملی سامنے نہیں رکھی، تاہم انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پیغام میں اپنی پارٹی کے ارکان کو متوجہ کرتے ہوئے لکھا ’ریپبلکنز کو چاہیے کہ وہ روس پر عائد پابندیوں کے بل میں ایران کو بھی شامل کریں۔‘ انہوں نے اس اقدام کو حال ہی میں انتقال کر جانے والے سینیٹر لنڈسے گراہم کی خواہش قرار دیا۔
توانائی کی حفاظت اور اندرونی تنقید
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ توقع سے زیادہ طویل ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت امریکی مشن کا بنیادی مرکز ’خلیج میں تیل کی روانی کو یقینی بنانا اور آبنائے ہرمز کا تحفظ‘ بن چکا ہے۔
اس حکمتِ عملی پر ڈیموکریٹس کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جنہوں نے اس جنگ کو ’مرضی کی جنگ‘ (War of Choice) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کے پاس اس دلدل سے نکلنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔
جنگ کا پس منظر اور موجودہ نازک موڑ
یہ تنازع رواں سال فروری کے اواخر میں شروع ہوا تھا، جس کے بعد سے اب تک 400 سے زائد امریکی فوجی زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں تہران کی جانب سے امریکا کے ساتھ ہونے والی عارضی تفہیم (MoU) کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد اس جنگ نے مزید خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملے بند نہ کیے تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ امریکی افواج ایران کے اندر اسٹریٹجک اور فوجی تنصیبات پر مسلسل فضائی حملے کر رہی ہیں۔














