ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی آج رات اسلام آباد پہنچیں گے جبکہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند اس وقت اسلام آباد پہنچ چکی ہیں۔ اِس لحاظ سے پاکستان کے لیے آج سفارتی لحاظ سے ایک مصروف دن ہے۔
اسکندر مومنی پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ اسکندر مومنی کے دورے کا مقصد ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے گفتگو کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان بارڈر مینجمنٹ اور سیکیورٹی مسائل پر بات چیت کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا، ایرانی سفیر
اسکندر مومنی کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان پہنچے گا۔ ایرانی وزیر داخلہ کے دورے کے مقاصد کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان سے اسلام آباد ایم او یو پر بات کریں گے کیونکہ اطلاعات کے مطابق دونوں ثالثوں پاکستان اور قطر نے جنگ بندی کے لیے کچھ نئی تجاویز امریکا اور ایران کے سامنے رکھی ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان 8 جولائی سے شروع ہونے والی شدید لڑائی کے بعد یہ کسی ایرانی عہدیدار کا پہلا دورہ ہوگا۔ امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور امریکا نے ایران کے سویلین انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
گزشتہ روز ایران نے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیاکہ وہ فوری، غیر مشروط اور قابلِ تصدیق جنگ بندی یقینی بنائے تاکہ خطے میں مزید خونریزی اور تباہی کو روکا جا سکے۔
ایران نے اپنے مؤقف میں کہاکہ امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، اس لیے سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ان حملوں کو رکوانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
تہران نے یہ بھی کہاکہ اگر اس کے خلاف حملے بند ہو جائیں تو وہ سفارتی حل اور جنگ بندی کے نفاذ کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، تاہم اس نے واضح کیاکہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران پاکستانی حمایت کبھی نہیں بھولے گا، صدر مسعود پزشکیان کا محسن نقوی سے اظہار تشکر
ایران نے خبردار کیاکہ جنگ کے پھیلاؤ سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور توانائی کی ترسیل بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔











