سپریم کورٹ نے ڈیویڈنڈ آمدن پر ٹیکس سے متعلق اہم مقدمے میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور قرار دیا ہے کہ ڈیویڈنڈ آمدن پر صرف انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 5 کا اطلاق ہوگا، سیکشن 39 لاگو نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس نظام میں تبدیلی: شہباز شریف حکومت نے 16 بینکوں سے 23 ارب روپے وصول کرلیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈیویڈنڈ آمدن پر 10 فیصد حتمی ٹیکس ہی قانونی ٹیکس ذمہ داری ہے، جبکہ اس پر 35 فیصد کارپوریٹ ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ڈیویڈنڈ ایک الگ ٹیکس بلاک ہے، اسے عام آمدن قرار دے کر معمول کے کارپوریٹ ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔
جسٹس عقیل احمد عباسی نے اہم فیصلہ تحریر کیا، جس میں ایف بی آر کا مؤقف قانونی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی تمام سول پٹیشنز خارج کردی گئیں اور اپیل کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب
مقدمے میں ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ کمپنیوں سے ڈیویڈنڈ آمدن پر 35 فیصد کارپوریٹ ٹیکس وصول کیا جائے، جبکہ درخواست گزار کمپنیوں کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت ڈیویڈنڈ آمدن پر صرف 10 فیصد حتمی ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
یہ تنازع انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 5 اور سیکشن 39 کی تشریح کے حوالے سے سامنے آیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے ہی ٹیکس دہندگان کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جسے ایف بی آر نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایف بی آر کی 35 فیصد کارپوریٹ ٹیکس وصول کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ڈیویڈنڈ پر مخصوص ٹیکس نظام ہی نافذ العمل رہے گا۔
اس مقدمے میں سعودی پاک انڈسٹریل اینڈ ایگریکلچرل انویسٹمنٹ کمپنی، فوجی فاؤنڈیشن، فوجی فرٹیلائزر، کیپ گیس اور دیگر کمپنیوں نے ایف بی آر کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔













