رات کی ڈیوٹی کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے دن کے وقت گہری نیند لینا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے لیکن اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف تھکن کا نہیں بلکہ انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی (باڈی کلاک) سے مسلسل ٹکراؤ کا ہے جو دل کی بیماری، فالج، الزائمر، ذیابیطس، ذہنی امراض اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات بھی بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہفتہ وار نیند پوری کرنے کی کوشش کیوں بن جاتی ہے پیر کی تھکن کی وجہ؟
ماہرین کے مطابق نرسیں، ڈاکٹر، پیرامیڈکس، فیکٹری ورکرز، ٹرک ڈرائیور، انجینیئرز اور دیگر رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد اکثر صبح گھر پہنچنے کے باوجود فوراً نہیں سو پاتے کیونکہ انسانی جسم لاکھوں برس کے ارتقائی عمل کے دوران سورج کے طلوع و غروب کے مطابق کام کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔
نیند صرف آرام نہیں، دماغ کی صفائی بھی کرتی ہے
امریکا کی یونیورسٹی آف واشنگٹن انسٹیٹیوٹ آف اسٹیم سیل اینڈ ری جینیریٹو میڈیسن سے وابستہ سائنسدان ہینیلے روہولا بیکر کے مطابق لوگ اب روایتی علاج سے ہٹ کر نئی طبی تحقیق میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے نیند کے ماہر پروفیسر رسل فوسٹر کا کہنا ہے کہ نیند صحت کا اتنا ہی بنیادی ستون ہے جتنا متوازن غذا اور ورزش۔
مزید پڑھیے: زیادہ اور کم نیند دونوں خطرناک، ماہرین نے بہترین دورانیہ بتادیا
ماہرین کے مطابق نیند کے دوران دماغ صرف آرام نہیں کرتا بلکہ دن بھر کی یادداشتیں محفوظ کرتا ہے، جذبات کو منظم کرتا ہے، مسائل کے حل میں مدد دیتا ہے، جسمانی پٹھوں کی مرمت کرتا ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور سب سے اہم یہ کہ دماغ میں جمع ہونے والے مضر فضلات کو صاف کرتا ہے۔
دماغ کی صفائی کا قدرتی نظام کیسے کام کرتا ہے؟
تحقیق کے مطابق دماغ میں ایک قدرتی صفائی کا نظام موجود ہوتا ہے جسے گلیمفیٹک سسٹم کہا جاتا ہے۔
یہ نظام نیند کے دوران دماغی رگوں کے اطراف سے سیال مادہ گزار کر ایسے فضلات خارج کرتا ہے جو جاگتے وقت جمع ہوتے رہتے ہیں، جن میں ایملوئیڈ اور ٹاؤ نامی پروٹین بھی شامل ہیں۔ یہی پروٹین بعد میں الزائمر کے مریضوں کے دماغ میں بڑی مقدار میں جمع ہوتے ہیں۔
ایک رات کی بے خوابی بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے
کیمبرج یونیورسٹی کے نیورولوجسٹ پروفیسر ہیو مارکس اور ان کی ٹیم نے برطانیہ بائیو بینک کے ڈیٹا کی مدد سے 40 ہزار سے زائد افراد کے دماغی اسکینز کا جائزہ لیا۔
مزید پڑھیں: صحت اور سکون کے لگژری پروگرامز کا نیا رجحان: بہتر نیند اور کم تناؤ کے دعوے
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے دماغ میں فضلات نکالنے کا قدرتی نظام کمزور تھا ان میں بعد کے برسوں میں ڈیمنشیا ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک رات جاگنے سے بھی دماغ کے اردگرد موجود سیال میں ایملوئیڈ پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جبکہ اگر یہ سلسلہ برسوں جاری رہے تو اس کے سنگین اثرات سامنے آسکتے ہیں۔
رات کی شفٹ اور الزائمر کا تعلق
سویڈن کے کارولنسکا انسٹیٹیوٹ کی ایک طویل تحقیق میں 13 ہزار سے زائد شفٹ ورکرز کو 41 سال تک فالو کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق درمیانی عمر میں مسلسل رات کی شفٹ کرنے والے افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ 36 فیصد زیادہ پایا گیا جبکہ جتنے زیادہ سال رات کی شفٹ کی گئی، خطرہ بھی اتنا ہی بڑھتا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟
تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف نیند ہی الزائمر کی وجہ نہیں بنتی بلکہ بلند فشار خون، تمباکو نوشی، ذیابیطس اور دیگر طبی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دل، ذیابیطس اور کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے
تحقیقی جائزوں کے مطابق اگر مسلسل 3 یا اس سے زیادہ راتوں تک نیند صرف ساڑھے 4 گھنٹے رہے تو جسم میں سوزش پیدا کرنے والا مدافعتی نظام زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔
اسی طرح ناکافی نیند کے باعث کورٹیسول (اسٹریس ہارمون) بڑھ جاتا ہے، انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی ہے، ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، دل کی بیماریوں کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے اور رات بھر جاگنے کے لیے میٹھی اشیا کھانے کی عادت مزید نقصان پہنچاتی ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے رات کی شفٹ میں کام کرنے کو ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والا قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ جسم میں میلاٹونن ہارمون کی پیداوار میں خلل، دھوپ سے کم واسطہ ہونے کے باعث وٹامن ڈی کی کمی اور مسلسل سوزش ہے جس کا تعلق چھاتی، پروسٹیٹ اور بڑی آنت کے کینسر سے جوڑا جا رہا ہے۔
کیا نیند کو 2 حصوں میں تقسیم کرنا بہتر ہے؟
اب سائنسدان ایک نئے تصور پر بھی تحقیق کر رہے ہیں جسے بائی فیزک سلیپ کہا جاتا ہے۔
اس طریقے میں ایک ہی بار کئی گھنٹے سونے کے بجائے نیند کو 2 الگ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیمپنگ بہتر نیند اور دیرپا مثبت اثرات کے لیے سودمند، چلیں آزماتے ہیں
ناروے کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف آکوپیشنل ہیلتھ کی محقق ڈاکٹر لائن وکٹوریہ معین نے آرکٹک سرکل میں رات کی شفٹ کرنے والے ملازمین کا جائزہ لیا۔
انہوں نے دیکھا کہ زیادہ تر افراد صبح تقریباً 9 بجے سے ایک بجے تک سوتے تھے، پھر جاگ جاتے اور بعدازاں شام کے وقت دوبارہ چند گھنٹے سو لیتے تھے۔
ڈاکٹر لائن وکٹوریا کے مطابق ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی دن بھر مسلسل سونے کی اجازت نہیں دیتی۔
یہ طریقہ نیا نہیں بلکہ صدیوں پرانا ہے
ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کے مؤرخ راجر ایکرچ کے مطابق صنعتی انقلاب سے پہلے یورپ میں لوگوں کی اکثریت رات کو 2 حصوں میں سوتی تھی۔
وہ رات تقریباً 9 بجے سوتے، آدھی رات کے بعد ایک گھنٹے کے لیے جاگتے، دعا، گفتگو یا معمولی کام کرتے اور پھر دوبارہ دوسری نیند سوتے تھے۔
بعد میں گیس لیمپ، بجلی اور جدید طرزِ زندگی نے اس قدرتی معمول کو تبدیل کر دیا۔
مزید پڑھیے: کیا اسمارٹ فون کی نیلی روشنی واقعی آپ کی نیند خراب کرتی ہے؟
اسی نظریے کی تائید امریکی ماہر نفسیات تھامس ویہر کے تجربات سے بھی ہوئی جن میں لوگوں کو طویل اندھیرا فراہم کیا گیا تو وہ خودبخود 2 حصوں میں سونے لگے۔
دوپہر کی مختصر نیند بھی فائدہ مند
ڈاکٹر لائن وکٹوریا کی تحقیق کے مطابق اگر رات کی شفٹ کے بعد لمبی نیند ممکن نہ ہو تو دوپہر میں ایک مختصر نیند (قیلولہ) بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
متعدد مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ 20 سے 50 منٹ کی نیند غنودگی کم کرتی ہے، توجہ بہتر بناتی ہے، کام کی کارکردگی بڑھاتی ہے اور گھر واپسی کے دوران غنودگی کے باعث حادثات کے خطرات کم کرتی ہے۔
واضح طبی رہنما اصول تیار کیے جا رہے ہیں
ڈاکٹر لائن وکٹوریا کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم 11 ہزار سے زائد سائنسی مطالعات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ 2 حصوں میں نیند لینا رات کی شفٹ کرنے والے افراد کے لیے واقعی زیادہ مفید ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق بہت سے شفٹ ورکرز اس بات پر پریشان رہتے ہیں کہ وہ دن میں مسلسل کئی گھنٹے کیوں نہیں سو پاتے جبکہ ممکن ہے کہ ان کے جسم کے لیے یہی قدرتی طریقہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پھل، جو کھانے سے بہتر نیند آتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر اس حوالے سے واضح طبی رہنما اصول سامنے آتے ہیں تو لاکھوں رات کی شفٹ کرنے والے افراد اپنی صحت بہتر بنانے کے لیے زیادہ مؤثر فیصلے کر سکیں گے۔














