شوہر کے ظلم یا بدسلوکی پر نکاح ختم ہونے کی صورت میں بیوی حقِ مہر سے محروم نہیں ہو سکتی، لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر شوہر کے ظلم، بدسلوکی یا ناروا رویے کی وجہ سے نکاح ختم ہو تو بیوی کا حقِ مہر برقرار رہے گا، چاہے خاندانی عدالت ڈگری کو ’خلع‘ ہی قرار دے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے شوہر کی جانب سے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے خاندانی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں خاتون کو مؤخر حقِ مہر کا 50 فیصد ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس موقع پر خلع کے مقدمات میں حقِ مہر کی خودکار ضبطی کے تاثر کو بھی مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بغیر اجازت دوسری شادی پر شوہر پہلی بیوی کو مہر کی رقم فوری ادا کرنے کا پابند ہوگا، لاہور ہائیکورٹ

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 18 مارچ 2022 کو ہوئی تھی اور مؤخر حقِ مہر ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا تھا۔

خاتون نے بعد ازاں نکاح فسخ کرنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جب انہوں نے حقِ مہر کا مطالبہ کیا تو شوہر نے انہیں جسمانی اور زبانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ شوہر بے روزگار تھا، چوری اور نشہ آور اشیا میں ملوث تھا اور انہیں زبردستی گھر سے نکال دیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی خاندانی عدالت نے نکاح فسخ کرتے ہوئے خاتون کو مؤخر حقِ مہر کا 50 فیصد دینے کا حکم دیا، جس کے خلاف شوہر نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

شوہر کا مؤقف تھا کہ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے 2022 میں فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کی ذیلی دفعات (5) اور (6) کالعدم قرار دیے جانے کے بعد خاندانی عدالتوں کے پاس نکاح ختم ہونے کی صورت میں حقِ مہر دینے کا اختیار نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیں: سسر کی ملکیت حق مہر میں دینے کا دعویٰ مسترد، سپریم کورٹ کا فیصلہ

تاہم جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف ناپسندیدگی کی بنیاد پر حاصل کیے گئے خلع اور شوہر کی بدسلوکی یا ظلم کی وجہ سے ہونے والے فسخِ نکاح میں واضح قانونی فرق ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ فسخِ نکاحِ مسلم 1939 کی دفعات 2 اور 5 کے تحت اگر بیوی جسمانی، ذہنی، زبانی یا معاشی تشدد جیسے قانونی اسباب ثابت کر دے تو اس کا حقِ مہر، خواہ فوری ہو یا مؤخر، ادا شدہ ہو یا غیر ادا شدہ، متاثر نہیں ہوتا۔

جسٹس کیانی نے قرار دیا کہ خاندانی عدالت بیوی کے قابلِ اعتماد بیان پر بھی فیصلہ دے سکتی ہے اور اس کے لیے لازمی نہیں کہ طبی سرٹیفکیٹ یا پولیس رپورٹ موجود ہو۔

عدالت نے مزید کہا کہ خاندانی عدالتیں ظلم کی بنیاد پر دائر مقدمات کو خاتون کی واضح رضامندی کے بغیر معمول کے مطابق سادہ خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

فیصلے میں کہا گیا کہ غیر ادا شدہ مؤخر حقِ مہر شوہر پر قرض ہوتا ہے، جسے خلع کی آڑ میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ حقِ مہر نکاح کے معاہدے سے پیدا ہونے والا مالی حق ہے، نہ یہ شوہر کے لیے سزا ہے اور نہ ہی ایسا فائدہ جسے خاندانی عدالت اپنی صوابدید پر ختم یا کم کر سکے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے نشاندہی کی کہ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے متعلقہ دفعات کالعدم قرار دیے جانے کے بعد نئی قانون سازی نہ ہونے سے ماتحت عدالتوں میں ابہام پیدا ہوا، جس کے باعث متعدد مقدمات میں خواتین کو بلاجواز حقِ مہر سے محروم کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ فیصلے کی نقل پنجاب کے محکمہ قانون و پارلیمانی امور اور پاکستان کے لا اینڈ جسٹس کمیشن کو بھجوائی جائے تاکہ ایسی قانون سازی کی جا سکے جو نکاح کے خاتمے کی صورت میں خواتین کے حقِ مہر کو واضح طور پر تحفظ فراہم کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پورٹ قاسم میں 150 ایکڑ رقبے پر آٹو پروسیسنگ زون قائم کرنے کا منصوبہ

آزاد کشمیر: ن لیگی امیدوار نے فیصل راٹھور کی کامیابی چیلنج کردی، دوبارہ گنتی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

یورپ میں شدید خشک سالی، توانائی کا نیا بحران پیدا، رومانیہ کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بھی بند ہونے کے قریب

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا

خیبرپختونخوا میں 15 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

سہیل آفریدی فارغ، اکبر ایس بابر کی تابڑ توڑ واپسی، عمران خان کا نیا پلان کیا ہے؟

جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر، راجا بازار میں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار

پاکستان کے نوجوان ’کاکروچ‘ نہیں، قوم کا مستقبل اور اقبال کے شاہین ہیں، رانا مشہود احمد خان

کالم / تجزیہ

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے