امریکا کے ایران پر مسلسل دسویں رات بھی حملے، ٹرمپ کی مزید سخت کارروائی کی دھمکی

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے ایران پر مسلسل دسویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے خلیجی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے پیر کی شب بتایا کہ تازہ کارروائی تقریباً 5 گھنٹے جاری رہی، جس کے دوران ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، بحری صلاحیتوں اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے ایران پر مسلسل نویں رات بھی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو شدید نقصان، تہران کا دعویٰ

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایران میں بندر عباس، قشم جزیرے، چاہ بہار، کنارک اور سیریک کے قریب دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو امریکی حملوں کے دوران پیش آئے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حالیہ گھنٹوں میں بحرین اور کویت میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں میں ’بڑے پیمانے پر آگ‘ لگنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد ایران کو خبردار کیا ہے کہ اسے امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کی ’کئی گنا زیادہ قیمت‘ چکانا پڑے گی۔

مزید پڑھیں: ایران جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی، ٹرمپ مستقبل کی حکمتِ عملی پر خاموش

رائٹرز کے مطابق ہفتے کے اختتام تک اس جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 17 ہو چکی ہے۔

دریں اثنا، ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے عالمی توانائی کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، حملے بڑھے تو پورا مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بن جائے گا

جاری جنگ کے باعث ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں ایران کے توانائی کے مراکز اور پلوں کو بھی ممکنہ اہداف قرار دے چکے ہیں۔

تاہم بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق شہری زندگی کے لیے ضروری تنصیبات کو نشانہ بنانا 1949 کے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر جنگی جرم تصور کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئے، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا