جمہوریت، سلامتی اور معیشت: بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان اور یورپ کے تعلقات کا نیا رخ

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں پاکستان اور یورپ کے تعلقات تجارت، جمہوریت، سلامتی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور ترقیاتی تعاون جیسے متعدد شعبوں پر محیط ایک وسیع شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں، تاہم جمہوریت، انسانی حقوق اور سلامتی سے متعلق مختلف نقطۂ نظر اعتماد کے فقدان کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق یورپی یونین پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، جبکہ جی ایس پی پلس (GSP+) دونوں کے درمیان اقتصادی تعاون کا بنیادی ستون ہے، جس نے پاکستانی برآمدات کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی فراہم کر کے تجارتی روابط کو مضبوط بنایا۔

مزید پڑھیں:جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کے لیے یورپی یونین کی شرائط، برآمدی شعبہ حکومتی اقدامات کا منتظر

دستاویز کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے جمہوری سفر کا جائزہ ملک کے مخصوص سیاسی ارتقا، آئینی ڈھانچے اور پیچیدہ سیکیورٹی ماحول کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ پاکستان باقاعدہ انتخابات، آئینی طریقے سے اقتدار کی منتقلی، آزاد عدلیہ، متحرک میڈیا اور فعال سول سوسائٹی کو جمہوری اداروں کی مضبوطی کی علامت قرار دیتا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ بعض بین الاقوامی رپورٹس اور انسانی حقوق سے متعلق مہمات ملکی سلامتی کے چیلنجز، آئینی تقاضوں اور جاری اصلاحات کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھتیں، جس کے باعث پاکستان اور یورپی شراکت داروں کے درمیان تاثر کا فرق پیدا ہوتا ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 2 دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس دوران بھاری انسانی، معاشی اور ادارہ جاتی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کے مطابق دہشتگردی، سرحد پار حملوں، پراکسی جنگ اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے تناظر میں بعض قومی پالیسی فیصلوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ بعض یورپی ممالک میں موجود علیحدگی پسند اور ریاست مخالف عناصر قانونی آزادیوں کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا، مالی معاونت اور اثرورسوخ کی مہمات چلاتے ہیں، جس سے دوطرفہ اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

دستاویز کے مطابق افغانستان سے سرگرم دہشتگرد گروہ پاکستان میں شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے منسلک بعض تنظیمیں یورپ میں موجود پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں:جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان سب سے زیادہ مستفید ملک قرار

پاکستان نے زور دیا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کو انسانی حقوق یا سیاسی سرگرمیوں کی آڑ میں جگہ نہیں ملنی چاہیے، جبکہ عالمی برادری کو دہشتگردی کی مالی معاونت اور سرحد پار نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے انٹیلیجنس تعاون، قانونی معاونت اور استعداد کار میں اضافے کو فروغ دینا چاہیے۔

دستاویز میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان اعتماد کے فقدان کو کم کرنے، جی ایس پی پلس کے فوائد کے تحفظ، مؤثر تزویراتی روابط کے فروغ اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر متوازن، حقیقت پسندانہ اور مستقبل پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے شواہد پر مبنی مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر: ن لیگی امیدوار نے فیصل راٹھور کی کامیابی چیلنج کردی، دوبارہ گنتی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

یورپ میں شدید خشک سالی، توانائی کا نیا بحران پیدا، رومانیہ کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بھی بند ہونے کے قریب

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا

خیبرپختونخوا میں 15 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ڈاکٹر کی فیس سے بچنے کے لیے مریضوں کے انوکھے بہانے، ایک خاتون ڈاکٹر کی بپتا

ویڈیو

سہیل آفریدی فارغ، اکبر ایس بابر کی تابڑ توڑ واپسی، عمران خان کا نیا پلان کیا ہے؟

جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر، راجا بازار میں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار

پاکستان کے نوجوان ’کاکروچ‘ نہیں، قوم کا مستقبل اور اقبال کے شاہین ہیں، رانا مشہود احمد خان

کالم / تجزیہ

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے