افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق رویہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں، مائیکل کوگلمین بول پڑے

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق رویہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں آگیا ہے۔

واشنگٹن میں مقیم امور خارجہ اور جنوبی ایشیا کے معروف امریکی ماہر مائیکل کوگلمین نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اب بھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات اور اتحادی شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے طالبان کی مسلسل گریز کی پالیسی ہے۔

ٹی ٹی پی کو اب بھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل

مائیکل کوگلمین کے مطابق متعدد شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے عناصر افغانستان میں موجود ہیں اور انہیں وہاں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان قریبی تعلقات کے باعث طالبان اس تنظیم کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں، حالانکہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان اور طالبان مذاکرات بے نتیجہ

تجزیہ کار نے کہاکہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مختلف سطحوں پر متعدد مذاکرات ہو چکے ہیں، جن میں چین کی ثالثی سے ہونے والے رابطے بھی شامل ہیں، تاہم ان کوششوں سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کی جانب سے بارہا ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا، لیکن اب تک افغان طالبان کی جانب سے ایسے عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے جن سے اس خطرے میں واضح کمی واقع ہوئی ہو۔

علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ

مائیکل کوگلمین کے مطابق ٹی ٹی پی کا مسئلہ اب بھی خطے کی سلامتی کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اس خطرے کے فوری خاتمے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے، کیونکہ اب تک ہونے والی سفارتی اور سیاسی کوششیں مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اور عملی کارروائی نہیں کی جاتی، یہ تنظیم پاکستان سمیت پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنجیدہ سکیورٹی چیلنج بنی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے شاہ غلام قادر کی ملاقات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ

مچل اسٹارک کا نیا ریکارڈ، بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین بولر بن گئے

روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا