امریکا نے نئی نسل کے فضائی سفر کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں اور سپر سونک مسافر طیاروں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں پہلی بار الیکٹرک ایئر ٹیکسی کے آزمائشی آپریشن کا آغاز
امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹ اور وفاقی ادارہ برائے ہوابازی نے اعلان کیا ہے کہ جدید فضائی ٹیکنالوجی کو جلد از جلد تجارتی استعمال میں لانے کے لیے ضوابط میں نرمی کی جا رہی ہے، تاکہ الیکٹرک عمودی اڑان اور لینڈنگ کرنے والی ایئر ٹیکسیوں اور آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پرواز کرنے والے مسافر طیاروں کی راہ ہموار ہوسکے۔
سپر سونک پروازوں کی واپسی
امریکی حکام نے 1973 سے نافذ زمینی علاقوں کے اوپر سپر سونک پروازوں پر عائد پابندی ختم کرنے کے بعد شور کی بنیاد پر نئے حفاظتی معیارات تجویز کیے ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت سخت رفتار کی حد مقرر کرنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آواز کے دھماکے کے اثرات کو کم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کا منصوبہ
وفاقی ادارہ برائے ہوابازی نے گزشتہ سال الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کے لیے ایک آزمائشی پروگرام شروع کیا تھا، جس کے تحت 26 ریاستوں میں 8 شراکت دار ادارے شہری آمدورفت، سامان کی ترسیل اور طبی خدمات کے لیے ان جدید طیاروں کی آزمائش کررہے ہیں۔
ہوابازی کے نئے دور کی تیاری
ادارے نے الیکٹرک فضائی گاڑیوں کے لیے پرواز اور پائلٹ سرٹیفکیشن کے قواعد بھی حتمی شکل دے دی ہے، جس کے بعد یہ جدید طیارے ہیلی کاپٹروں اور روایتی ہوائی جہازوں کے ساتھ قومی فضائی حدود میں محفوظ طریقے سے پرواز کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن کی پہلی الیکٹرک ایئر ٹیکسی سروس کا آغاز کب ہوگا؟
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد پرانے ضوابط ختم کرکے جدید ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی، ماحول دوست فضائی آمدورفت میں عالمی قیادت حاصل کرنا اور ہوابازی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔
وفاقی ادارہ برائے ہوابازی کے نائب سربراہ کرس روشیلیو نے کہا کہ ادارہ سرٹیفکیشن اور ضوابط سے متعلق رکاوٹوں کو دور کر رہا ہے تاکہ صنعت اپنی جدت کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
حکام کے مطابق پرواز، لینڈنگ اور شور سے متعلق نئے حتمی معیارات 2027 کے وسط تک نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔













