ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے ملاقات کے لیے شدید خواہش رکھتا ہے، تاہم واشنگٹن صرف اسی صورت میں مذاکرات کرے گا جب تہران بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کسی نئے مقام پر سرگرمیاں شروع کیں تو امریکا اسے نشانہ بنائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان

انہوں نے کہاکہ وہ جس نئے مقام کی بات کررہے ہیں، ہم اسے ضرور نشانہ بنائیں گے۔ جہاں بھی وہ جوہری سرگرمیوں کا سوچیں گے، ہم وہاں بھرپور کارروائی کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ امریکی فوجی کارروائیوں سے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حالیہ حملے کے دوران ایران اردن میں کچھ اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر اس وقت جنگ ختم بھی ہو جائے تو ایران کو اپنی تباہ شدہ تنصیبات اور صلاحیتیں بحال کرنے میں 20 سے 25 سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم ابھی بالکل ختم نہیں ہوئے، ہم اس وقت وہاں سے نہیں جا رہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کررہا ہے۔

منگل کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے ایک مخلص اور غیرجانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت دونوں ممالک نے کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن معاہدے کی جانب پیش رفت پر اتفاق کیا تھا۔

اس مفاہمتی فریم ورک کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے پر مذاکرات کرنے کا عزم کیا۔

پاکستان نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہوں۔

وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام، مذاکرات اور سفارتی عمل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم تہران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ بامعنی اور مکمل طور پر قابل عمل ہونا چاہیے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے بعض عناصر آبنائے ہرمز کو عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئے، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا