امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے ملاقات کے لیے شدید خواہش رکھتا ہے، تاہم واشنگٹن صرف اسی صورت میں مذاکرات کرے گا جب تہران بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کسی نئے مقام پر سرگرمیاں شروع کیں تو امریکا اسے نشانہ بنائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان
انہوں نے کہاکہ وہ جس نئے مقام کی بات کررہے ہیں، ہم اسے ضرور نشانہ بنائیں گے۔ جہاں بھی وہ جوہری سرگرمیوں کا سوچیں گے، ہم وہاں بھرپور کارروائی کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ امریکی فوجی کارروائیوں سے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حالیہ حملے کے دوران ایران اردن میں کچھ اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر اس وقت جنگ ختم بھی ہو جائے تو ایران کو اپنی تباہ شدہ تنصیبات اور صلاحیتیں بحال کرنے میں 20 سے 25 سال لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم ابھی بالکل ختم نہیں ہوئے، ہم اس وقت وہاں سے نہیں جا رہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کررہا ہے۔
منگل کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے ایک مخلص اور غیرجانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت دونوں ممالک نے کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن معاہدے کی جانب پیش رفت پر اتفاق کیا تھا۔
اس مفاہمتی فریم ورک کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے پر مذاکرات کرنے کا عزم کیا۔
پاکستان نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہوں۔
وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام، مذاکرات اور سفارتی عمل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم تہران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ بامعنی اور مکمل طور پر قابل عمل ہونا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے بعض عناصر آبنائے ہرمز کو عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔













