تھانہ بھارہ کہو کے علاقے میں خواتین سے مبینہ نازیبا حرکات اور انہیں انجکشن لگا کر اغوا کرنے کی کوشش سے روکنے پر ملزمان نے ڈاکٹرز اور ان کے ساتھیوں پر تشدد کیا، جبکہ فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: افغان ڈکیت گینگ کی پولیس پر فائرنگ، سرغنہ زخمی حالت میں گرفتار
مقدمے کے متن کے مطابق ڈاکٹر زریاب سمیت دیگر عملہ ڈاکٹر خرم کے گھر دعوت میں شرکت کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں ڈاکٹر فضل اللہ خان اور اسد سمیت دیگر ملزمان نے ان کا راستہ روک لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان ایک ایمبولینس، ڈالہ اور سوزوکی گاڑی میں سوار تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے خواتین سے نازیبا حرکات کیں اور انہیں انجکشن لگا کر اغوا کرنے کی کوشش کی، جس پر روکنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

مقدمے کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے عظیم اللہ زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان موقع سے فرار ہوتے ہوئے اپنی ایک گاڑی اور گولیوں کے خول چھوڑ گئے، جنہیں تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں پولیس پارٹی پر فائرنگ، 2 ڈاکو ہلاک
متاثرہ فریق کا مؤقف ہے کہ تھانہ بھارہ کہو پولیس نے واقعے کا مقدمہ نسبتاً کمزور دفعات کے تحت درج کیا ہے، جبکہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔
نوٹ: خبر مقدمے میں درج الزامات اور متاثرہ فریق کے مؤقف پر مبنی ہے، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ پولیس یا نامزد ملزمان کا مؤقف سامنے آنے پر خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے۔














