حکومت کا 2035 تک آبادی میں اضافے کی شرح آدھی کرنے کا عزم

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہباز شریف نےتیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کے لئے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے،بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیئے۔

جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: آبادی پر کنٹرول کے لیے نیشنل پاپولیشن کونسل قائم، فیلڈ مارشل بھی رکن نامزد

وزیر اعظم نے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے،بہبود آبادی کے اقدامات کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے،بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، بہبود آبادی اور نیشنل پاپولیشن کونسل کے اجلاس کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد بلایا جائے گا جس میں تمام صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، آزادکشمیر کے وزیراعظم اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے نمائندے اور سٹیک ہولڈرز شرکت کریں گے تاکہ بہبود آبادی کے حوالےسے جامع حکمت عملی ترتیب دی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج جاری،2050 تک پاکستان کی آبادی میں کتنا اضافہ ہو جائے گا؟

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل سیکریٹریٹ کے آپریٹنگ طریقہ کار کو تیار کر لیا گیا ہے،نیشنل سٹیبلائزیشن پلان 35۔ 2026 تیار کیا جا رہا ہے جس میں آبادی بڑھنے کی رفتار کو کم کرنے کے حوالے سے قومی فریم ورک پیش کیا جائے گا،اس پلان کے تحت آبادی میں اضافے کی شرح کو موجودہ 2.55 فیصد سے کم کر کے 2035 تک 1.25 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا جارہا ہے۔

حکام کے مطابق پاپولیشن سٹیبلائیزشن کے نئے فریم ورک کے تحت صحت ، تعلیم ، نوجوان آبادی ، لیبر فورس میں خواتین کی تعداد میں اضافے ، پیشہ ورانہ تربیت اور سماجی تحفظ پر توجہ مرکوز کی جائے گی ،وفاقی حکومت کے سماجی تحفظ کے کئی اقدامات کو بہبود آبادی سے مشروط کرنے کے حوالے سے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا