وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مقبول انجیکشنز، جیسے اوزیمپک، ویگووی اور مونجارو استعمال کرنے والے بعض افراد میں بال گرنے کے خطرات بڑھنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
امریکا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے محققین کی نئی تحقیق کے مطابق ان ادویات کا استعمال کرنے والے افراد میں دیگر ذیابیطس کی ادویات لینے والوں کے مقابلے میں بال گرنے کا امکان نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گرتے بالوں کو روکنے والی دوا دل کی بیماری کے خطرے کو کیسے کم کرتی ہے؟
محققین نے 50 ہزار سے زائد طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ جی ایل پی-ون ادویات استعمال کرنے والوں میں بال گرنے کا خطرہ ڈی پی پی-فور ادویات لینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 69 فیصد جبکہ ایس جی ایل ٹی-2 ادویات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ تھا۔
تحقیق کے مطابق بال گرنے کی شکایات زیادہ تر علاج شروع ہونے کے تقریباً ایک سال بعد سامنے آئیں۔ یہ رجحان مردوں اور خواتین دونوں میں دیکھا گیا، تاہم خواتین میں اس کا امکان نسبتاً زیادہ تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بال گرنا نان اسکارنگ ایلوپیشیا کی ایک قسم ہے، جس میں بالوں کی جڑیں مستقل طور پر متاثر نہیں ہوتیں، اس لیے مناسب دیکھ بھال کے بعد دوبارہ بال اُگنے کا امکان موجود رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالوں کو کئی دن تک نہ دھونے سے آپ کو کن مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے؟
سائنسدانوں کے مطابق تیزی سے وزن کم ہونے، جسم میں ضروری غذائی اجزا جیسے آئرن، زنک اور بایوٹن کی کمی، شدید کیلوریز کی پابندی اور ہارمونز میں تبدیلیاں بھی بالوں کی نشوونما کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ان ادویات استعمال کرنے والوں میں بال گرنے کی موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس ممکنہ ضمنی اثر کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ اس تحقیق میں بال گرنے کے خطرے میں اضافہ ضرور دیکھا گیا، تاہم مجموعی طور پر یہ اضافہ محدود تھا، جو متبادل ذیابیطس کی ادویات کے مقابلے میں ہر ایک ہزار مریضوں میں تقریباً تین اضافی کیسز کے برابر بنتا ہے۔














