پاکستان نے پہلی مرتبہ ہائبرڈ سکوک کی نیلامی کے ذریعے 239.3 ارب روپے حاصل کر لیے جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے 770 ارب روپے سے زائد کی بولیاں موصول ہوئیں جس سے اس نئے اسلامی مالیاتی منصوبے میں غیرمعمولی دلچسپی ظاہر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں کا رخ، یورو بانڈ اور سکوک بانڈز جاری کرنے کا عمل شروع
سکوک دراصل روایتی حکومتی بانڈز کا اسلامی متبادل ہیں۔ عام طور پر حکومتیں فنڈز حاصل کرنے کے لیے بانڈز جاری کرتی ہیں جن میں سرمایہ کار حکومت کو رقم قرض دیتے ہیں اور اس کے بدلے سود وصول کرتے ہیں۔
تاہم اسلامی مالیاتی نظام میں سود کی اجازت نہیں اس لیے سکوک حقیقی اثاثوں پر مبنی ہوتے ہیں جن سے حاصل ہونے والی آمدنی، مثلاً کرایہ، سرمایہ کاروں کو شریعت کے مطابق منافع کی صورت میں دی جاتی ہے۔
ہائبرڈ سکوک کیا ہوتے ہیں؟
’ہائبرڈ‘ سے مراد ایک ہی سرمایہ کاری میں 2 مختلف مالیاتی ڈھانچوں کو یکجا کرنا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کا پہلا گرین سکوک بانڈ لانچ، معیشت کی بحالی پر وزیر خزانہ کا اظہار اطمینان
پاکستان کے پہلے ہائبرڈ سکوک میں سرمایہ کاروں کو ایک ہی نیلامی کے ذریعے 3 ماہ، 6 ماہ اور ایک سال مدت کے ڈسکاؤنٹ سکوک کے ساتھ ساتھ 10 سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ (وی آر آر) سکوک میں سرمایہ کاری کا موقع دیا گیا۔
ڈسکاؤنٹ سکوک کیسے کام کرتے ہیں؟
مختصر مدت کے ڈسکاؤنٹ سکوک رعایتی قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی سرمایہ کار آج 95 روپے ادا کرے تو مدت پوری ہونے پر اسے 100 روپے واپس ملتے ہیں جبکہ دونوں کے درمیان فرق اس کا منافع ہوتا ہے۔
ویری ایبل رینٹل ریٹ سکوک کیا ہیں؟
دوسری جانب 10 سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ سکوک میں منافع ایک مخصوص مالیاتی معیار (بینچ مارک) سے منسلک ہوتا ہے اس لیے مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق اس کی واپسی کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس نیلامی کی اہمیت کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق تمام سرمایہ کار ایک جیسی سرمایہ کاری پسند نہیں کرتے۔
کچھ لوگ مختصر مدت اور نسبتاً یقینی منافع چاہتے ہیں جبکہ بعض طویل مدت تک سرمایہ کاری رکھنے اور مارکیٹ کے مطابق منافع میں ردوبدل قبول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے پہلے گرین سکوک بانڈز کے اجرا کا اعلان
ہائبرڈ سکوک دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کی ضروریات پوری کرتے ہیں جس سے سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔
حکومت کو کیا فائدہ ہوگا؟
زیادہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا مطلب ہے کہ حکومت کے لیے ترقیاتی اور دیگر سرکاری اخراجات کے لیے فنڈز حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے اور اسے صرف ایک ہی قسم کے مالیاتی ذرائع پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
بدھ کو ہونے والی اس پہلی ہائبرڈ سکوک نیلامی میں حکومت نے 239.3 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا تھا تاہم سرمایہ کاروں نے 770 ارب روپے سے زائد کی بولیاں دیں جو اس نئی اسلامی سرمایہ کاری اسکیم پر مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 4 سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری، پاکستان کی معاشی استحکام کی جانب اہم پیشرفت
اگرچہ ہائبرڈ سکوک ایک پیچیدہ مالی اصطلاح محسوس ہوتی ہے لیکن بنیادی طور پر یہ اسلامی سرمایہ کاری کو زیادہ متنوع اور مختلف نوعیت کے سرمایہ کاروں کے لیے موزوں بنانے کا ایک نیا طریقہ ہے۔














