حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات میں کوئی حتمی پیشرفت نہ ہونے کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے آج سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال شروع کردی، جس کے باعث گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردی ہیں۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے ساتھ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور فریقین کے درمیان مطالبات کے حوالے سے حتمی پیشرفت نہ ہوسکی۔
مزید پڑھیں: گڈز ٹرانسپورٹرز کے بعد آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا
محمد اویس چوہدری نے بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور پیر کو متوقع ہے، تاہم مطالبات منظور ہونے تک پہیہ جام ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے اور حکومت سے توقع ہے کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عملی پیش رفت کی جائے گی۔
ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات
گڈز ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں کے روزانہ تعین کا فیصلہ واپس لینے اور اس کی قیمت ماہانہ بنیاد پر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے دیگر مطالبات میں یکم جون 2024 کے ٹول ٹیکس نرخوں کی بحالی، ٹول ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کرنا اور آئندہ ایک سال کے دوران نئے ٹول پلازے قائم نہ کرنا شامل ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے گڈز ٹرانسپورٹرز پر عائد 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کرکے 2 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں ایکسل لوڈ قوانین کا یکساں نفاذ اور اوورلوڈنگ کی روک تھام سورس پوائنٹس سے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کسٹمز قانون واپس لینے کا بھی مطالبہ
محمد اویس چوہدری نے کسٹمز قانون واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں گڈز ٹرانسپورٹ سروس معطل، اشیائے ضروریہ کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ کا نظام دوبارہ بحال ہوسکے۔














