لندن ہائیکورٹ نے سماء ٹی وی کے خلاف دائر کیس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے نیوز چینل کو حکم دیا کہ وہ جرمانے کے طور پر مدعی کو 35 ہزار پاؤنڈ اور قانونی اخراجات بھی ادا کرے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ناصر بٹ نے 3 دیگر ٹی وی چینلز اے آر وائی، دنیا اور ہم ٹی وی کے خلاف بھی ہتک عزت کے کیسز ’آؤٹ آف کورٹ سیٹلمینٹ‘ کے تحت جیت چکے ہیں تاہم یہ پہلا کیس تھا جس میں عدالت نے باقائدہ ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔
اس حوالے سے ن لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی ناصر بٹ نے ٹوئٹر پر بھی لکھا اور کیس پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن ہائیکورٹ نے سماء ٹی وی کے خلاف ہتک عزت کیس میں ان کا موقف درست تسلیم کرتے ہوئے سماء برطانیہ کو 35ہزار پاؤنڈ قانونی اخراجات کی مد میں جرمانہ کردیا۔
ناصر بٹ نے بتایا کہ جولائی سنہ 2019 میں جب مریم نوازشریف نے جج ارشد ملک کی ریکارڈنگ والی ویڈیوز نشر کی تھیں تو سماء سمیت دیگر چینلز نے ان پر بے بنیاد الزامات لگائے تاہم 4 سال کی انتھک محنت کے بعد وہ برطانیہ میں اب تک 4 چینلز کے خلاف ہتک عزت کے کیسز جیت چکا ہوں۔ انہوں نے لندن ہائیکورٹ کے فیصلے کو میاں نوازشریف کے حق میں کلین چٹ ہے بھی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے فیصلے میں جسٹس مسز ہیدر ولیمز نے سماء کے وکیل کے اس بیان کو مسترد کیا کہ نوازشریف کو عزیزیہ کیس میں کرپشن پر 10 سال کی سزا دینے والا جج ارشد ملک ایماندار شخص تھا جسے ناصر بٹ نے ویڈیو بناکر بلیک میل کیا تاکہ نوازشریف کی مدد کی جاسکے اور یہ کہ نوازشریف و ارشدملک ویڈیو اسکینڈل کو رپورٹ کرنا مفاد عامہ میں تھا۔
واضح رہے کہ لندن ہائیکورٹ جج نے ناصر بٹ کے کیس کی سماعت کے دوران مقدمے میں شواہد کا جائزہ لیا اور 4 روزہ سماعت کے بعد اس کا فیصلہ سنادیا۔
دوران سماعت جسٹس مسز ہیدرو لیمز نے نجی چینل کا مؤقف مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کوبدعنوانی پرسزا درست تھی اور نجی ٹی وی کا کیس ہی اس بنیاد پر تھا کہ العزیزیہ کیس میں نوازشریف کی سزاکرپشن کے ثبوتوں کی بنیاد پر تھی۔
سماء ٹی وی کا مؤقف تھا کہ ناصربٹ کی جج ارشد ملک کو دھمکانے اور رشوت دینےکی خبرعوامی مفاد میں نشرکی، ارشد ملک نے درست سزا دی تھی۔
جج جسٹس مسز ہیدر ولیمز نے چینل کے اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور جج نے ناصربٹ کی اس دلیل کو تسلیم کیا کہ نوازشریف کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، ناصر بٹ نے خفیہ طور پر ویڈیو بناکر جج ارشد ملک کو بے نقاب کیا، جج کی ویڈیو بنا کر نواز شریف کی بے گناہی کے لیے استعمال غلط نہیں۔
ناصر بٹ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ جج ارشد ملک کو بتایا جاتا کہ ان کی فلم بندی کی جارہی ہے تو وہ کبھی غلطی کا اقرار نہیں کرتے، ناصر بٹ کی بنائی گئی ویڈیو میں جج ارشد ملک نے اعتراف کیا کہ بلیک میل ہوکر نوازشریف کو العزیزیہ کیس میں 10 برس قید کی سزا دی۔
دوران سماعت ٹی وی چینل کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ناصر بٹ نے ایماندار جج ارشد ملک کو دھمکایا اور رشوت دی جس پر جج نے چینل کے وکلا کے دلائل کو کمزور قرار دے کر مسترد کردیا۔
جسٹس مسز ہیدر ولیمز نے 36 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے چینل پر یہ پابندی بھی عائد کی کہ وہ نواز شریف اور ناصر بٹ کے خلاف الزمات نہیں دہرا سکتے۔ جج نے قرار دیا کہ ناصربٹ کی ہتک عزت ہوئی اوربلیک میلنگ اور جھوٹے الزمات سےساکھ کونقصان پہنچا۔
لندن ہائیکورٹ کا فیصلہ الحمدللہ میاں نوازشریف کو کلین چٹ ہے۔ عمران خان جو کہ بات بات پہ برطانوی نظامِ انصاف کی مثالیں دیتا ہے اب ساری دنیا جان چکی ہے کہ پہلے میاں شہبازشریف اور اب میاں نوازشریف کو لندن ہائیکورٹ سے کلین چٹ ملی۔ اس سے قبل میں تین چینلز کے خلاف ARY, DUNYA, HUM TV کے…
— Nasir Butt (@nasirbuttuk) June 16, 2023
بعد ازاں اپنے ٹوئٹ میں ناصر بٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’برطانوی عدالت نے میرے موقف کو درست تسلیم کیا کہ ناصر بٹ نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا تھا کہ میاں نوازشریف نے کچھ غلط کیا ہے اور انہوں نے برطانوی عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے میاں نوازشریف کو سزا دے کر سنہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا تھا مزید برآں انہوں نے کہا کہ اب تو عمران خان نے بھی تسلیم کیا کہ میاں نوازشریف کو سزائیں اسٹیبلشمنٹ نے دلوائیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں اس بات کی وضاحت کردیں کہ ان کا کیس سماء ٹی وی کی پرانی مینجمنٹ کے خلاف تھا جس نے 11جولائی سنہ 2019 کو ان کے خلاف الزامات نشر کیے تھے تب پاکستان میں سماء کے مالک ظفر صدیقی اور برطانیہ میں طاہر ریاض خان تھے، سماء کی موجودہ مینجمنٹ اور مالک علیم خان کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔
ناصر بٹ نے کہا کہ ’میں اللہ کی ذات کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ جس نے میاں نوازشریف کو لندن ہائیکورٹ میں سرخرو کیا اور مجھ پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کو شکست دی جو کہ دعویٰ کرتے پھرتے تھے کہ ہم ناصر بٹ اور نوازشریف کو لندن ہائیکورٹ میں شکست دیں گے‘۔ ناصر بٹ نے اپنے ٹوئٹر پیغام کا آغاز ’وتعز من تشاء‘ جب کہ اس کا اختتام ’واللہ ہو خیر الماکرین‘ پر کیا۔













