بنگلادیش میں خسرہ اور اس سے ملتی جلتی علامات کی ہلاکت خیز وبا نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سات ہلاکتوں کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر کے 601 تک پہنچ گئی ہے۔
بنگلادیش کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب تک ہزاروں شہری اس وبائی مرض سے شدید متاثر ہوچکے ہیں، جس کے باعث ملک کا نظامِ صحت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: خسرے کی نگرانی میں شدت، وسیع تر وبا کا خدشہ
ہلاک ہونے والے افراد میں سے نوے مریضوں میں خسرہ کی لیبارٹری سے تصدیق ہو چکی تھی جبکہ 511 مریض خسرہ جیسی شدید علامات کے باعث دم توڑ گئے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں خسرہ کے 1210 نئے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد اب تک سامنے آنے والے مجموعی مشتبہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 74572 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسی عرصے میں خسرہ کے 55 نئے کنفرم کیسز بھی سامنے آئے جس سے تصدیق شدہ مریضوں کی کل تعداد 9191 ہو گئی ہے۔
وبائی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک ہی دن میں خسرہ اور اس سے متعلقہ پیچیدگیوں میں مبتلا 1052 نئے مریضوں کو ملک کے مختلف اسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسپتالوں کے وبائی وارڈز میں گنجائش کم پڑنے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں خسرہ بحران سنگین، بچوں کی اموات 500 سے تجاوز کر گئیں
بنگلادیشی حکام نے اب تک پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیش نظر اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کو وسیع کرنے اور بیماری کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
دوسری جانب پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس جان لیوا مرض کو عام بیماری سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، بلکہ بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کی فوری ویکسینیشن کروائیں اور علامات ظاہر ہوتے ہی قریبی ہسپتالوں سے رجوع کریں تاکہ بروقت طبی مداخلت کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق یہ حالیہ وبا اس وقت بنگلادیش کو درپیش صحت کے بڑے اور سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے۔














