۔
۔
بھارت کے معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ بھوک ہڑتال کے 19 روز مکمل ہونے پر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث ملک بھر میں تشویش بڑھ گئی ہے اور مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات نے ان سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
59 سالہ وانگچک گزشتہ 19 روز سے صرف نمک ملے پانی پر گزارا کر رہے ہیں۔ ان کے معاونین کے مطابق اس دوران ان کا 9.1 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، وہ شدید جسمانی تکلیف میں مبتلا ہیں اور سہارے کے بغیر کھڑے ہونے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔
دہلی ہائیکورٹ نے جمعرات کو ایک درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کو ہدایت کی کہ سونم وانگچک کی صحت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طبی سہولت فراہم کی جائے۔
سونم وانگچک آن لائن طنزیہ تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کی حمایت میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں، جو ملک میں تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ طبی تعلیم میں داخلے کے لیے ہونے والے نیٹ (NEET) امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ کیا گیا، جس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔
تاہم دھرمیندر پردھان نے کاکروچ جنتا پارٹی اور اس کے حامیوں کو ’انتشار پسند عناصر کی بی ٹیم‘ قرار دیتے ہوئے ان کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اب تک مظاہرین سے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں کیے۔
سونم وانگچک کون ہیں؟
’سونم سر‘ کے نام سے معروف وانگچک لداخ کی نمایاں عوامی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور بھارت بھر میں خاصی شہرت رکھتے ہیں۔
انہیں 2018 میں ایشیا کے نوبیل انعام کہلانے والے ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 2009 کی سپر ہٹ بالی ووڈ فلم تھری ایڈیٹس کے مرکزی کردار کی تخلیق بھی ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر کی گئی تھی، جبکہ 2017 میں وہ امیتابھ بچن کے مشہور پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں خصوصی مہمان کے طور پر بھی شریک ہوئے تھے۔
وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت پر اپوزیشن رہنماؤں، سماجی کارکنوں، ادیبوں، فنکاروں اور موسیقاروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک مشترکہ بیان پر 1,800 سے زائد فنکاروں، ادیبوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے دستخط کرتے ہوئے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس نہ دل ہے اور نہ ہی ضمیر۔
یہ بھی پڑھیے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سونم وانگچک سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی مفاد میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو وانگچک کی اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے، اس لیے وہ صحت یاب ہونے کے بعد نئے جذبے کے ساتھ اپنی جدوجہد دوبارہ شروع کریں۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھی جذباتی انداز میں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، یہی کسی بھوک ہڑتال کا مقصد ہوتا ہے۔ بھارت کو آئندہ طویل جدوجہد کے لیے آپ کی آواز کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس پیر سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے، جہاں طلبہ کے مسائل مؤثر انداز میں اٹھائے جا سکتے ہیں، اس لیے وانگچک اپنی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں۔
معروف بالی ووڈ اداکارہ زینت امان نے بھی انسٹاگرام پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر فوری مذاکرات کا آغاز کرے کیونکہ یہ پورے بھارت کے مستقبل سے متعلق مسئلہ ہے۔
وانگچک کا انکار
سونم وانگچک نے اب تک اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’میں نے جو جدوجہد شروع کی ہے، اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔‘
بدھ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں انہیں ساتھیوں کے سہارے چلتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم چند لمحوں بعد وہ ٹانگ میں شدید درد کے باعث کرسی پر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔
وانگچک کی تشویشناک حالت کے بعد دہلی ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس میں استدعا کی گئی کہ انہیں سرکاری اسپتال منتقل کر کے ضرورت پڑنے پر زبردستی خوراک دی جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا
درخواست میں الزام لگایا گیا کہ حکومت سونم وانگچک کے ساتھ ایک ’سخت گیر مجرم، دہشتگرد یا ملک دشمن‘ جیسا سلوک کر رہی ہے اور ان کی زندگی کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔
حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی صحت کا جائزہ لے رہی ہے اور اگر حالت مزید خراب ہوئی تو فوری مداخلت کی جائے گی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کی جان قیمتی ہے اور حکومت پر لازم ہے کہ اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

جنتر منتر پر احتجاج جاری
دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی مقام ’جنتر منتر‘ پر جاری احتجاج میں شدید گرمی کے باوجود شرکا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ موسم کی شدت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے، تاہم سینکڑوں افراد احتجاج میں شریک ہیں اور ان کی سب سے بڑی تشویش سونم وانگچک کی صحت ہے۔
کالج کی طالبہ انشو جھا نے کہا ’انہیں ہمارے لیے بھوک ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں تھی، وہ ہمارے مستقبل کے لیے یہ قربانی دے رہے ہیں۔ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ اس پرامن احتجاج میں شامل ہوں۔ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو مجھے زندگی بھر احساسِ جرم رہے گا۔‘
وانگچک کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر ستیش لامبا نے بتایا کہ ان کے جسم میں چربی ختم ہونے کے بعد اب پٹھوں کا وزن بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگلے مرحلے میں اگر جسم کے اہم اعضا متاثر ہوئے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج کا آغاز ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اپنے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں کیا تھا۔
سونم وانگچک اس بھوک ہڑتال میں تنہا نہیں بلکہ مختلف طلبہ تنظیموں کے متعدد کارکن بھی ان کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کارکن کی طبیعت بگڑنے پر اسے ہفتے کے آغاز میں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
مظاہرین نے جمعرات کو ملک گیر یومِ بھوک ہڑتال منانے کا اعلان کیا، جبکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔













