غزہ میں اسرائیلی محاصرے اور مسلسل جنگ کے باعث بجلی کا بحران اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندان نہ صرف خوراک کے حصول بلکہ اسے محفوظ رکھنے کی جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔
شدید گرمی، بجلی کی عدم دستیابی اور ریفریجریشن کی سہولت نہ ہونے کے باعث کھانا چند گھنٹوں میں خراب ہو جاتا ہے، جبکہ مریضوں کے لیے ضروری ادویات کو محفوظ رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
4 بچوں کی ماں ملک الزعانین اپنے خیمے میں اس چاول کی پلیٹ کو دیکھتی ہیں جو ان کے خاندان کو قریبی کمیونٹی کچن سے ملی تھی، شوہر اور بچوں کے کھانا کھانے کے بعد بچ جانے والا کھانا ان کے لیے نئی پریشانی بن جاتا ہے۔
’بچے تھوڑی دیر بعد دوبارہ بھوک محسوس کریں گے لیکن تب تک یہ کھانا شاید خراب ہو چکا ہوگا کیونکہ ہمارے پاس چلنے والا فریج نہیں اور خیمہ بھٹی کی طرح گرم رہتا ہے۔‘
Life without refrigerators: Gaza residents fight heat and food spoilage
https://t.co/upgEzo3bok— Joe Catron (@jncatron) July 24, 2026
جنگ سے پہلے ان کا فریج کئی دن تک خوراک محفوظ رکھتا تھا مگر اب بجلی نہ ہونے کے باعث وہ محض ایک بے کار چیز بن کر رہ گیا ہے۔ خاتون نے اسے میز اور الماری میں تبدیل کر دیا ہے جہاں امدادی سامان، راشن کے ڈبے اور گھر کی دیگر ضروری اشیا رکھی جاتی ہیں۔
خوراک محفوظ رکھنا بھی ایک امتحان
اقوام متحدہ کے ادارے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ شدید گرمی، طویل بجلی بندش اور ریفریجریشن کی سہولت نہ ہونے کے باعث غزہ میں خوراک کے خراب ہونے اور آلودہ غذا سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر بے گھر خاندانوں کے لیے۔
ایندھن کی شدید قلت کے باعث بجلی، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی خدمات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
ملک الزعانین کہتی ہیں کہ وہ بڑی مشکل سے بچوں کے لیے کھانا حاصل کرتے ہیں، پھر اسے اپنی آنکھوں کے سامنے خراب ہوتے دیکھتے ہیں کیونکہ اسے محفوظ رکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔

شدید گرمی کے علاوہ خیموں میں خوراک مکھیوں، کیڑوں اور چوہوں سے بھی محفوظ نہیں رہتی کیونکہ بے گھر افراد کی بستیوں میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایک بار انہیں چاول اور گوشت ملا تھا۔ بچوں نے گوشت کھا لیا، مگر باقی بچ جانے والے چاول رکھنے کی کوئی جگہ نہ تھی، اس لیے انہیں پھینکنا پڑا۔
مزید پڑھیں: غزہ میں سگریٹ لائٹر بھی لائف لائن بن گیا
’۔۔۔اور ہم کیا کرتے؟ یہی ہماری زندگی بن چکی ہے۔‘
اگر کبھی ٹھنڈے پانی کی تھیلی دستیاب ہو تو وہ دو شیکل ادا کرکے خرید لیتی ہیں، لیکن اکثر خاندان کو سورج کی تپش سے گرم ہو جانے والے ذخیرہ شدہ پانی پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔
ٹھنڈا پانی اب ایک خواب
قریب ہی رہنے والی 43 سالہ منال حمد کی خواہش بھی صرف ایک گلاس ٹھنڈا پانی ہے۔
’میری دوائیں فریج میں رکھنا ضروری ہیں، ٹھنڈا پانی میرے لیے خواب بن چکا ہے۔ جب ٹینکی کا گرم پانی پیتی ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے دل جل رہا ہو اور میرا بلڈ پریشر فوراً گر جاتا ہے۔‘
3 بچوں کی ماں منال ذیابیطس، بلند فشار خون اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ ان کی جان بچانے والی ادویات کو مسلسل ٹھنڈا رکھنا ضروری ہے، مگر بجلی نہ ہونے کے باعث وہ کبھی دوسروں کو پیسے دے کر دوائیں یا کھانا فریج میں رکھواتی ہیں، مگر یہ سہولت بھی ہمیشہ میسر نہیں ہوتی۔
This is our life in the sweltering summer heat. We live under a thin sheet of cloth, the heat scorching our bodies, and we don't have a single dollar to buy cooking gas. Please don't abandon us. https://t.co/XfuUHIW9Eg pic.twitter.com/ir6C5fYwAU
— hayam GAZA om jolia🇵🇸 (@hyamalqra494) July 18, 2026
وہ بتاتی ہیں کہ ایک مرتبہ گوشت محفوظ رکھنے کے لیے 10 شیکل ادا کیے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھی خراب ہو چکا تھا۔
شدید گرمی کے باعث وہ سبزیوں کو بار بار خیمے کے ایک سائے دار کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کرتی رہتی ہیں تاکہ کچھ دیر مزید محفوظ رہ سکیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا غزہ میں انسانی بحران اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید اظہارِ تشویش
ان کے بقول سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے بچوں کو ٹھنڈا پانی، جوس یا پھل بھی فراہم نہیں کر سکتیں۔ وہ صرف پانی سے بھری ایک بالٹی رکھ دیتی ہیں تاکہ بچے خود کو کچھ ٹھنڈک پہنچا سکیں۔
’میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔‘
فریج اب الماری بن چکے ہیں
غزہ سٹی کے زیتون محلے میں 40 سالہ ندال رفیع نے بھی اپنا بند پڑا فریج الماری میں تبدیل کر دیا ہے جہاں وہ ڈبہ بند خوراک اور گھریلو سامان رکھتے ہیں۔
’جو چیزیں کبھی عام ضرورت تھیں، آج ان کے لیے الگ سے پیسے دینے پڑتے ہیں، پانی، موبائل چارج کرنا اور اب کھانا یا پانی ٹھنڈا کروانا بھی مہنگی سہولت بن گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں: غزہ میں بھوک کا بحران اسرائیل نے جان بوجھ کر پیدا کیا، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
اشیا اور توانائی کی قلت کے باعث مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ اور ان کی اہلیہ روزانہ صرف اتنا ہی کھانا پکاتے ہیں جتنا ایک وقت میں استعمال ہو سکے تاکہ کچھ بھی ضائع نہ ہو۔
’ہم خوراک ضائع ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے غزہ کے ہزاروں دوسرے خاندان زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔‘
ٹھنڈا پانی بیچ کرروزگار
وسطی غزہ کے ایک عارضی کیمپ میں 34 سالہ محمد الزعانین نے اپنا چھوٹا سا فریزر روزگار کا ذریعہ بنا لیا ہے، بیت حانون سے بے گھر ہونے والے محمد پہلے ڈرائیور تھے، مگر ملازمت ختم ہونے کے بعد انہوں نے ڈیزل جنریٹر کی مدد سے ایک چھوٹا کاروبار شروع کیا۔
وہ لوگوں کے موبائل فون چارج کرتے ہیں، پانی اور مشروبات ٹھنڈے کرکے فروخت کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کے کھانے کو بھی فیس کے عوض فریزر میں محفوظ رکھتے ہیں۔
تاہم اس کاروبار کی لاگت بھی بہت زیادہ ہے، صرف فریزر چلانے پر ہر ماہ تقریباً 1,500 شیکل خرچ ہوتے ہیں، جبکہ ہر 10 روز بعد بجلی پر 1,300 سے 1,400 شیکل تک ادا کرنا پڑتے ہیں۔
Gaza faces a collapse of water and sanitation systems, with most infrastructure damaged and families relying on seawater or infrequent deliveries as health risks rise https://t.co/qdg1dGRmlh pic.twitter.com/Xcl2pZCi3U
— Reuters (@Reuters) July 21, 2026
اس کے باوجود ان کے پاس گاہکوں کی کمی نہیں۔
’لوگ روز آتے ہیں، کوئی پانی کی بوتل ٹھنڈی کروانا چاہتا ہے، کوئی اپنا کھانا محفوظ رکھوانا چاہتا ہے، مگر میں سب کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔‘
وہ ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک سماعت سے محروم شخص صرف ایک آم لے کر آیا اور اشاروں کی زبان میں درخواست کرنے لگا کہ اسے فریج میں ٹھنڈا کر دیں۔
مزید پڑھیں: سعودی قیادت کی ہدایت: غزہ کے عوام کے لیے ہوائی، بحری اور زمینی امدادی کارروائیاں تیز
’اس منظر نے میرا دل توڑ دیا۔ ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ صرف ایک آم ٹھنڈا کروانے کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہیں۔‘
’کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ موبائل فون چارج کرانے یا پانی کی ایک بوتل ٹھنڈی کرانے کے لیے دوسروں کے پاس جانا پڑے گا، مگر آج غزہ میں یہ بھی ایک عیاشی بن چکی ہے۔‘













