بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی رکن ریاستوں کی اسمبلی نے چیف پروسیکیوٹر کریم خان کو جنسی بدسلوکی کے الزامات کے بعد عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دے دیا۔
تاہم ان کی قانونی ٹیم نے اس فیصلے کو سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آزاد عدالتی تحقیقات کے نتائج کے برعکس کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کیخلاف فیصلہ کیوں دیا؟ امریکا نے عالمی عدالتِ انصاف کے مزید 2 ججز پر پابندیاں عائد کردیں
کریم خان کے وکیل طیب علی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے داخلی نگرانی کی تحقیقات کا جائزہ لینے والے عدالتی پینل نے متفقہ طور پر قرار دیا تھا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کریم خان کے خلاف بدانتظامی یا فرائض کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق اس کے باوجود انہیں ایسے وقت میں عہدے سے ہٹایا گیا جب وہ امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہے تھے اور عدالت شدید سیاسی دباؤ کی زد میں تھی۔
Member states of the International Criminal Court reportedly voted Friday to dismiss the tribunal's chief prosecutor over allegations of sexual misconduct.
British barrister Karim Khan was first accused of misconduct related to a female aide nearly two years ago. He denies any… pic.twitter.com/4bHay5YXEF
— PBS News (@NewsHour) July 24, 2026
وکیل کا کہنا تھا کہ کریم خان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا منصفانہ موقع نہیں دیا گیا اور رکن ممالک کا فیصلہ شواہد کے بجائے سیاسی عوامل سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی آزادی اور غیرجانبداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
56 سالہ برطانوی بیرسٹر کریم خان جون میں عارضی طور پر اپنے عہدے سے الگ ہوگئے تھے، جب ایک نگرانی پینل نے ان کے خلاف ’سنگین بدسلوکی‘ کا نتیجہ اخذ کیا تھا۔
ان پر الزام لگانے والی خاتون، جنہیں صرف ’سارہ‘ کے نام سے شناخت کیا گیا، نے دعویٰ کیا تھا کہ کریم خان نے متعدد مواقع پر ان کے ساتھ نامناسب جسمانی رویہ اختیار کیا۔
تاہم کریم خان نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
آئی سی سی نے اعلان کیا ہے کہ نئے چیف پروسیکیوٹر کے انتخاب تک نائب پروسیکیوٹرز نزہت شمیم خان اور مامے مندیائے نیانگ پروسیکیوٹر کے دفتر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جبکہ نئے پروسیکیوٹر کے انتخاب کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے، اگرچہ ووٹنگ آئندہ سال سے پہلے متوقع نہیں۔

کریم خان کا دور اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا تھا جب انہوں نے 2024 میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ طلب کیے تھے۔
اس اقدام پر امریکا اور اسرائیل نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے کریم خان سمیت آئی سی سی کے متعدد حکام پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: یورپ نے نیتن یاہو کیخلاف عالمی عدالت انصاف کے اقدام کی حمایت کردی
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ کریم خان کی برطرفی سے نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹس پر کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ ان وارنٹس کو صرف عدالت کے جج ہی منسوخ یا واپس لے سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والے تمام مقدمات کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری رکھے گی تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔














