امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک اور تجارتی جہاز کو خلیجِ عمان میں نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خلیج کے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل 13ویں روز بھی فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ امریکی بحریہ نے خلیجِ عمان میں ایم/ٹی لاوین (M/T Lavine) نامی تجارتی جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی ناکہ بندی توڑنے کی 4 مرتبہ کوشش کی۔
امریکی حکام کے مطابق جہاز کے عملے کو متعدد بار خبردار کیا گیا، تاہم ہدایات پر عمل نہ کرنے کے بعد امریکی فورسز نے جہاز کے انجن روم پر فائرنگ کی، جس سے جہاز ناکارہ ہو گیا۔ امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد یہ دوسرا تجارتی جہاز ہے جسے کارروائی کے ذریعے روکا گیا ہے۔
The UK says its armed forces are ready to defend the country following an Iranian warning over the use of British military bases by US forces.
Iran specifically mentioned RAF Fairford, reportedly used by a US B1 bomber in an attack on Iran this week. pic.twitter.com/HgI1RHQBUo
— Defense Intelligence (@DI313_) July 24, 2026
دوسری جانب ایران نے خلیج کے اطراف امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ عراق کے شہر اربیل میں امریکی فوجی اڈے کے قریب متعدد دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اعلیٰ قومی سلامتی حکام کے ساتھ ایران کی صورتحال پر اہم اجلاس بھی کیا، جس میں موجودہ حکمت عملی برقرار رکھنے یا فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کے آپشنز پر غور کیا گیا، تاہم فوری طور پر کسی نئے فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ مزید خطرناک مرحلے میں داخل، تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں نے خطے میں موجود امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو انخلا کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پڑوسی ممالک کے شہریوں کو امریکی فوجی اڈوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔













