امریکا ایران جنگ مزید خطرناک مرحلے میں داخل، تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے ایران پر مسلسل بارہویں رات بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے متعدد فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ جنوب مغربی ایران میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوگئے۔

امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران پر حملوں کی ایک اور لہر مکمل کر لی ہے۔

سینٹ کام کے مطابق حالیہ کارروائی میں ایرانی بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخائر، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی تجارتی جہازوں پر حملے کی صلاحیت مزید کمزور کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ ایران میں درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ بحری ناکہ بندی بھی جاری ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اب تک 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے جبکہ ایک جہاز کو ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روک دیا گیا۔

سینٹ کام نے بتایا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور وہ ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ عراق سے ملحق شلامچہ بارڈر کراسنگ کے قریب ایک مسافر ٹرمینل کے نزدیک دھماکوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ خوزستان کے مختلف شہروں، جن میں اہواز، ماہشہر، اندیمشک اور رامشیر شامل ہیں، میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ رامشیر میں اسفالٹ ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے حالیہ حملوں کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 8 بتائی گئی تھی۔

آبنائے ہرمز کے اطراف بھی دھماکے

ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہروں سیریک اور جاسک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ علاقے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی نگرانی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ صوبہ بوشہر میں بھی رات کے دوران 2 دھماکے رپورٹ ہوئے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ایس این اے کے مطابق امریکی حملے میں صوبہ ہرمزگان میں بحری تلاش و امداد کے لیے استعمال ہونے والی 2 ریسکیو کشتیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جنگ کے دارالحکومت کے قریب پہنچنے کے خدشات کے پیش نظر ایران نے بدھ کے روز تہران اور اس کے اطراف فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا۔

ایران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کا اعلان

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا دفاعی نظریہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ پر مبنی ہے۔

ان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکا ہر ایسے حملے کے جواب میں ایران کے کسی پل یا بجلی گھر پر بمباری کرے گا۔

غیرملکی میڈیا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ  اس نے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جنہیں امریکا کی کارروائیوں کے جواب میں انجام دیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملے صرف امریکی فوجی اہداف کے خلاف تھے اور ان کا مقصد کسی بھی صورت کویتی عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ علی السالم ایئر بیس پر واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک بڑے فوجی سازوسامان کے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرونز کے ہینگر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ العدیری (Al-Adiri) بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں اور 2 ہیلی کاپٹر ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی فورسز نے ایک مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا، جسے ایران میں امریکی حملوں کے دوران ٹیلی کمیونی کیشن ٹاورز پر کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا۔

تاہم، اس خبر کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکا کا دنیا بھر میں اپنے شہریوں کے لیے نیا انتباہ

امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

محکمے کے مطابق سیکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی سفارتی تنصیبات اور امریکا سے وابستہ کاروباری یا دیگر ادارے دنیا کے مختلف حصوں میں ممکنہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

محکمہ خارجہ نے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکیوں کو پروازوں اور سفر میں ممکنہ رکاوٹوں سے آگاہ رہنے اور خطے سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایران سے منسلک سائبر حملوں کا خدشہ

سائبر سکیورٹی کمپنی گلوبل سائبر رسک کی چیف ایگزیکٹو جوڈی ویسٹبی نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز امریکی اہم تنصیبات کے لیے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں۔

ان کے مطابق امریکی حکام ایسے متعدد سائبر حملوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں جن کا ہدف اسپتال، پانی کی فراہمی، فضلہ ٹھکانے لگانے کے نظام اور بجلی کی تنصیبات ہیں، اور ان حملوں کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کے الیکٹرانک سائبر کمانڈ گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں نجی شعبے کا منتشر نیٹ ورک ایسے حملوں کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جس سے ان حملوں کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

امریکی تجزیہ کار کی وارننگ

امریکا کے سابق سفیر جوی ہڈ نے کہا ہے کہ اگر جنگ کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے نہ ہوا تو امریکا، اسرائیل اور ایران سمیت تمام فریق نقصان اٹھائیں گے۔

ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے مشاورت کیے بغیر ایران پر حملے کر کے ایک بڑی تزویراتی غلطی کی، جبکہ ایران بھی اپنے جوابی حملوں میں امریکا کے بجائے خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنا کر کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کا واحد پائیدار حل مذاکرات ہیں، بصورت دیگر اس جنگ میں آخرکار ہر فریق کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp