وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما مصطفیٰ کمال نے ہفتے کے روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی جماعت شہر کے ساتھ ہونے والی ’ناانصافی‘ کے خلاف سڑکوں پر نکلے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، لیکن وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور بلدیاتی اختیارات کی تقسیم میں شہر کو اس کے کردار کے مطابق حصہ نہیں ملتا۔
مصطفیٰ کمال کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر یہ سوال زیرِ بحث آ گیا ہے کہ کیا کراچی سے وصول ہونے والا ٹیکس مکمل طور پر اسی شہر کی معاشی سرگرمیوں کی نمائندگی کرتا ہے یا اس میں ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے کاروبار اور معاشی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی ٹیکس ادائیگیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن، مگر وسائل میں صرف 3 فیصد حصہ ملا، مصطفیٰ کمال
اس حوالے سے 2021 میں اس وقت کے وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی کے 36ویں اجلاس میں رکنِ قومی اسمبلی سید آغا رفیع اللہ کے سوال نمبر 101 کے تحریری جواب میں واضح کیا تھا کہ کراچی میں بندرگاہ کی موجودگی اور بڑی قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر ہونے کے باعث متعدد کمپنیاں اپنی ٹیکس ادائیگیاں کراچی میں قائم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دفاتر کے ذریعے جمع کراتی ہیں۔ حالانکہ ان کی معاشی سرگرمیاں ملک کے مختلف حصوں میں ہوتی ہیں۔
جواب میں کہا گیا تھا کہ اسی وجہ سے کراچی کے ایف بی آر دفاتر کے ذریعے وصول ہونے والے ٹیکس کو شہر کی حقیقی معاشی شراکت کا مکمل عکاس قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب کراچی کی معاشی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ ملک کی 2 بڑی بندرگاہیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، بینکاری شعبے کا بڑا حصہ، درآمدات و برآمدات اور متعدد قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر اسی شہر میں قائم ہیں، جس کی وجہ سے وفاقی ٹیکس وصولیوں میں کراچی کا حصہ ملک کے دیگر شہروں سے کہیں زیادہ رہتا ہے۔
اس بحث کا ایک اور پہلو معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر نیاز مرتضیٰ نے اپنے ایک مضمون میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق کراچی کے بارے میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ وفاقی ٹیکس وصولیوں میں اس کا حصہ 50 سے 55 فیصد ہے۔
تاہم ان کے خیال میں اس شرح میں بندرگاہوں پر وصول ہونے والی کسٹمز ڈیوٹیز اور ان کمپنیوں کے ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں جن کے مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں لیکن ان کی کاروباری سرگرمیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔
ان کے اندازے کے مطابق کراچی کی حقیقی معاشی سرگرمی سے پیدا ہونے والے ٹیکس کا حصہ تقریباً 25 سے 30 فیصد کے درمیان ہے، تاہم یہ ان کا تجزیہ ہے، سرکاری اعداد و شمار نہیں۔یوں اس بحث کا مرکزی نکتہ ٹیکس کولیکشن اور ٹیکس جنریشن کے فرق سے جڑا ہے۔
ٹیکس کولیکشن سے مراد وہ رقم ہے جو ایف بی آر کے کسی دفتر کے ذریعے وصول ہوتی ہے، جبکہ ٹیکس جنریشن اس معاشی سرگرمی کو ظاہر کرتی ہے جس سے حقیقتاً ٹیکس پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی کمپنی کا مرکزی دفتر کراچی میں ہو لیکن اس کا کاروبار ملک بھر میں پھیلا ہو تو اس کی ٹیکس ادائیگی کراچی میں ریکارڈ ہوگی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا ٹیکس صرف کراچی کی مقامی معاشی سرگرمی سے حاصل ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟
اسی لیے کراچی کے ٹیکس سے متعلق جاری بحث میں ایک طرف شہر کی غیر معمولی معاشی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف سرکاری ریکارڈ یہ واضح کرتا ہے کہ کراچی میں وصول ہونے والی ہر ٹیکس رقم کو صرف شہر کی اپنی معاشی سرگرمیوں کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس لیے اس معاملے کو سیاسی دعوؤں کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام اور مالیاتی ڈھانچے کے تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔













