ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکا نے مسلسل 13 روزہ فضائی حملوں کے بعد پہلی بار ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا، تاہم بحری ناکہ بندی مزید سخت کرتے ہوئے ایران جانے والے متعدد تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب ایران نے بحیرۂ کیسپین میں اپنے تجارتی جہاز پر حملے کا الزام یوکرین پر عائد کرتے ہوئے اس کے سفارتی اہلکار کو طلب کر لیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ہفتے کے اختتام پر مزید وسعت اختیار کر گیا، تاہم امریکا نے مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد پہلی بار ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی عوام کی اکثریت ایران امریکا امن معاہدے کے حق میں، سروے رپورٹ
رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے، تاہم فضائی حملے روکنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ 25 جولائی تک امریکی افواج نے ناکہ بندی توڑ کر ایران جانے کی کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، 2 جہازوں کو احکامات نہ ماننے پر ناکارہ بنا دیا، جبکہ 2 دیگر جہازوں پر سوار ہو کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
Ukraine says it has struck several vessels in the Caspian Sea used to transport Russian military cargo to Iran. Reports suggest the cargo ships Port Olya 2 and Begey were hit. pic.twitter.com/bLjHrJSAFw
— распад и неуважение (@VictorKvert2008) July 25, 2026
سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ نے عرب بحیرہ میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی چارمینار کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد اسے اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی، جبکہ 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی لاوین کو متعدد بار ناکہ بندی توڑنے کی کوشش اور امریکی انتباہات نظر انداز کرنے پر ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے بعد وہ ایران کی جانب سفر جاری نہ رکھ سکا۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں مزید شدت لانے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی متاثر ہو سکتے ہیں، دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے ساتھ عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
دوسری جانب ایران نے بحیرۂ کیسپین میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا الزام یوکرین پر عائد کرتے ہوئے تہران میں یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر لیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق حملے میں ایک ملاح ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا، اور اس کارروائی کو دشمنانہ اور مجرمانہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روس مشرق وسطیٰ میں اپنے سیٹلائٹ مشاہدات ایران کو فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ خطے میں حملوں کی بہتر منصوبہ بندی کر سکے۔
Zelensky says Ukraine successfully struck Iranian vessels in the Caspian Sea that were transporting military cargo between Russia and Iran pic.twitter.com/4rxNowvDen
— Afshin Ismaeli (@Afshin_Ismaeli) July 25, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ خلیجی خطے میں امریکی فضائی حملوں میں وقتی وقفہ آیا ہے، تاہم بحری ناکہ بندی، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ کیسپین میں بڑھتی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران سے متعلق تنازع مزید وسیع ہو رہا ہے، جس کے عالمی توانائی کی ترسیل، سمندری تجارت اور مشرق وسطیٰ کے امن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔










