14 گھنٹے کی سنسنی خیز جدوجہد، بٹگرام کیبل کار حادثہ اب عالمی سینما کا حصہ

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

22 اگست 2023 کو پاکستان بھر میں لاکھوں افراد کی نظریں ٹی وی اسکرینوں اور سوشل میڈیا پر جمی ہوئی تھیں، جہاں خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں 8 افراد ایک ٹوٹی ہوئی کیبل کار میں دریا کے اوپر معلق زندگی اور موت کی کشمکش میں پھنسے ہوئے تھے۔

تقریباً 14 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس سنسنی خیز ریسکیو آپریشن کی داستان اب معروف پاکستانی فلم ساز محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کے ذریعے بڑی اسکرین پر پیش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بٹگرام حادثہ: بچوں کو موت کے منہ سے بچانے والا گمنام ہیرو ’صاحب خان‘ کون ہے؟

یہ فلم 28 اگست سے شمالی امریکا میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی، جبکہ رواں سال کے آخر میں برطانیہ میں بھی اس کی نمائش متوقع ہے۔

پاکستان، امریکا اور برطانیہ کے اشتراک سے تیار کی گئی اس فلم میں ہالی ووڈ کے یونیورسل پکچرز کانٹینٹ گروپ نے بھی حصہ لیا ہے۔

فلم کا عالمی پریمیئر رواں سال سنڈانس فلم فیسٹیول میں ہوا، جبکہ اسے سڈنی، سیئٹل اور نیویارک کے ٹریبیکا فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔

محمد علی نقوی کا کہنا ہے کہ یہ فلم اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سینما عالمی معیار کی متاثرکن اور سنسنی خیز کہانیاں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کی کہانیاں عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتی ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ فلم مزید پاکستانی فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔

مزید پڑھیں: بٹگرام چیئرلفٹ میں پھنسے 3 طالبعلم میٹرک بورڈ میں کامیاب

ایمی ایوارڈ یافتہ محمد علی نقوی اس سے قبل ’شیم‘ ’امنگ دی بیلیورز‘ اور ’پاکستانز ہڈن شیم‘ جیسی معروف دستاویزی فلموں سے شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

فلم کے پروڈیوسر بلال سمی ’لال کبوتر‘ اور ’دوبارہ پھر سے‘ سمیت کئی کامیاب منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں۔

فلم میں بٹگرام کے اس تاریخی ریسکیو آپریشن کی مکمل روداد پیش کی گئی ہے، جب کیبل کار کی 2 تاریں ٹوٹنے سے جن میں 6 اسکول کے بچوں سمیت 8 مسافر فضا میں معلق ہوکر رہ گئے تھے۔

مزید پڑھیں: بٹگرام واقعہ، دن بھر کیا ہوتا رہا؟

ابتدائی مرحلے میں پاک فوج اور پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں نے امدادی کارروائی کی، تاہم خراب موسم کے باعث صرف 2 بچوں کو نکالا جا سکا۔

بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں نے باقی بچ جانے والی واحد کیبل کے ذریعے معلق کیبل کار تک رسائی حاصل کی اور رات گئے تمام مسافروں کو ایک ایک کرکے بحفاظت نکال لیا۔

یہ کیبل کار دریائے جھنگڑی کے دونوں کناروں کے درمیان آمدورفت کا واحد ذریعہ تھی کیونکہ علاقے میں نہ سڑک تھی اور نہ ہی پل۔

واقعے کے بعد حفاظتی معائنے کے لیے علاقے میں چلنے والی دیگر نجی کیبل کار سروسز بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مجھے نیتن یاہو کی فراہم کردہ معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا

پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر، قوم کی یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، گورنر سندھ نہال ہاشمی

3 بجلی تقسیم کار کمپنیاں نجکاری کے قریب، نجکاری بورڈ نے تنظیم نو کی منظوری دے دی

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

ہونڈا اٹلس کا پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں فوری اینٹری سے انکار، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

مجھے نیتن یاہو کی فراہم کردہ معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی