وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کا آغاز ہوگیا: شہری آسان قرض کیسے حاصل کریں؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے رہائشی مسائل کے حل اور کم و متوسط آمدنی رکھنے والے خاندانوں کو اپنا گھر فراہم کرنے کے لیے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام شروع کردیا ہے۔

سرکاری طور پر ’وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام، گھر ہو تو اپنا‘ کے نام سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت ایسے شہریوں کو آسان شرائط پر طویل مدتی قرضے فراہم کیے جائیں گے جو پہلے سے کسی رہائشی مکان کے مالک نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپنا گھر اسکیم: 71 ارب روپے سبسڈی مختص، ایک کروڑ روپے تک قرض ملے گا

حکومت کے مطابق اس ہاؤسنگ فنانس اسکیم کا مقصد نہ صرف شہریوں کو اپنا گھر حاصل کرنے میں مدد دینا ہے بلکہ تعمیراتی شعبے کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔

اس پروگرام کے تحت تمام پاکستانی شہری جن کے پاس درست شناختی کارڈ موجود ہے، درخواست دے سکیں گے، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی جن کے پاس نائیکوپ یا پی او سی موجود ہو اور عمر 65 سال تک ہو، وہ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی یونٹ نہیں ہونا چاہیے، تاہم پیشے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں رکھی گئی۔ وکیل، صحافی، جج، پولیس اہلکار، مسلح افواج کے ملازمین اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اس اسکیم کے لیے اہل ہوں گے۔

حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد کو بھی شامل کیا ہے۔ ایسے افراد آمدنی کے ثبوت کے لیے بینک اسٹیٹمنٹ، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر دستاویزات فراہم کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کو زبردست پذیرائی : اب تک ملک بھر سے 67 ہزار 900 افراد نے درخواستیں جمع کرائیں

پروگرام کے تحت تیار مکان یا فلیٹ خریدنے، پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے، پلاٹ خرید کر تعمیر کرنے اور موجودہ گھر کی مرمت کے لیے مالی معاونت حاصل کی جا سکے گی۔ اس اسکیم میں 250 مربع گز تک کے گھروں اور 1500 مربع فٹ تک کے فلیٹس کو شامل کیا گیا ہے۔

حکومت نے مالی سال 2027 کے بجٹ میں اس منصوبے کے لیے 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے۔ پروگرام کے تحت کمرشل اور اسلامی بینکوں سے زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے جبکہ مائیکرو فنانس اداروں سے 50 لاکھ روپے تک قرض حاصل کیا جاسکے گا۔

قرض کی شرح کے حوالے سے پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد مقررہ سبسڈی شدہ شرح سود رکھی گئی ہے، جبکہ بعد کی مدت میں مارکیٹ کے مطابق شرح لاگو ہوگی۔ قرض کی واپسی کی مدت زیادہ سے زیادہ 20 سال ہوگی۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کو گھر کی قیمت کا کم از کم 10 فیصد ابتدائی رقم کے طور پر ادا کرنا ہوگی، جبکہ باقی 90 فیصد رقم مالیاتی ادارے فراہم کریں گے۔ قرض جلد واپس کرنے کی صورت میں کوئی اضافی جرمانہ یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ’اپنی چھت اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت قرضوں کی فراہمی کا حجم بڑھا دیا گیا

درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے یا کمرشل بینکوں، اسلامی بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں، ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی اور دیگر متعلقہ مالیاتی اداروں کے ذریعے جمع کرائی جاسکیں گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ مکمل قرض درخواستوں پر 15 کاروباری دنوں کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ حکومت نے ضلعی سطح پر سہولت مراکز قائم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ درخواست گزاروں کو زمین کے ریکارڈ اور دیگر ضروری دستاویزات کے حصول میں آسانی فراہم کی جاسکے۔

وزارت ہاؤسنگ اور اسٹیٹ بینک قرض کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ عوامی رہنمائی اور مسائل کے حل کے لیے خصوصی ہیلپ لائن بھی جلد فعال کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp