حکومتِ بلوچستان نے ایک اہم اور خوش آئند فیصلے میں سائرہ عطا، بی ایس 20، کو لسبیلہ ڈویژن کی پہلی خاتون کمشنر مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری صوبے میں خواتین کی انتظامی قیادت کے حوالے سے ایک نئی اور تاریخی مثال قائم کرتی ہے۔
میرٹ اور بااختیاری کی نئی مثال
واضح رہے کہ یہ فیصلہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے خواتین کو اعلیٰ انتظامی ذمہ داریاں سونپنے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ سائرہ عطا کی تقرری کو صوبے میں ‘میرٹ اور مساوی مواقع’ کے عزم کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:500 خواتین کو کاروباری مہارتیں، ٹیبلیٹس اور بزنس ٹول کٹس فراہم، بلوچستان میں خواتین کی ترقی کا نیا باب
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کا احترام محض زبانی دعووں سے نہیں بلکہ انہیں عملی مواقع فراہم کرنے سے ظاہر ہوتا ہے، اور یہ تقرری اسی سوچ کی عملی تصویر ہے۔
‘باصلاحیت بیٹیاں، روشن مستقبل‘
مبصرین کے مطابق بلوچستان کی بیٹیاں آج تعلیم، انتظامیہ، سماجی خدمات سمیت ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ ان کی یہ کامیابیاں صرف انفرادی کامیابی نہیں بلکہ صوبے کے ‘روشن، باوقار اور ترقی یافتہ’ مستقبل کی علامت سمجھی جا رہی ہیں۔ سائرہ عطا کی تقرری کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
خواتین کی قیادت، ترقی کی ضمانت
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی مکمل ترقی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں بھرپور کردار ادا نہ کریں۔ ان کے بقول ایک مضبوط بلوچستان وہی ہو سکتا ہے جہاں خواتین کو ان کی صلاحیت اور خدمات کے اعتراف کے ساتھ آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔
اجتماعی ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی سمت پیش قدمی
ماہرین کا مؤقف ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف ان کی ذاتی کامیابی تک محدود نہیں بلکہ یہ بلوچستان کی ‘اجتماعی ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور مضبوط مستقبل’ کی ضمانت بھی ہے۔ سائرہ عطا کی بطور کمشنر لسبیلہ تقرری کو اسی وسیع تر قومی و صوبائی مقصد کے حصول کی جانب ایک مثبت اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔













