اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کے پیش نظر پالیسی ریٹ (شرح سود) کو 11.50 فیصد پر بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اسٹیٹ بینک شرح سود میں پھر سے کمی کرنے جارہا ہے؟

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے معاشی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا ٹرینڈ مسلسل نیچے کی طرف آ رہا ہے۔ جولائی سے فروری کے دوران اوسط مہنگائی 5.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں ایک نمایاں کمی ہے۔

بیرونی مالیاتی صورتحال اور ذخائر کا تخمینہ

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ تمام تر عالمی معاشی چیلنجز اور بیرونی ادائیگیاں کرنے کے باوجود مرکزی بینک نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے۔ گورنر جمیل احمد کے مطابق مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کی کشیدگی کے باوجود معاشی بہتری کا ہمارا بنیادی اندازہ برقرار ہے۔

درآمدات، برآمدات اور ترسیلاتِ زر

انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں برآمدات اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر آمدنی کے دو اہم ترین ذرائع ہیں۔ حکومت کے عملی اقدامات کی بدولت مالی سال 2027 میں برآمدات میں مزید بہتری کی توقع ہے۔ آنے والے دنوں میں صنعتی سرگرمیوں کے باعث درآمدات میں اضافہ ہوگا، تاہم غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد مضبوط رہنے کے باعث معاشی توازن برقرار رہے گا۔

معاشی تجزیہ کار سلمان نقوی کے مطابق اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ متوقع تھا۔ مہنگائی کا 5.5 فیصد پر آنا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا قابو میں رہنا مثبت اشارے ہیں، تاہم مالی سال 2027 میں 21.5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج رہے گی۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ماہانہ 30 کروڑ ڈالر کی مسلسل آمد نے بیرونی کھاتوں پر دباؤ کو قدرے کم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں اضافہ، اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری، سرمایہ کاری اور ملک کی مجموعی معاشی نمو پر دوہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایک طرف یہ فیصلہ معاشی استحکام دیتا ہے تو دوسری طرف انڈسٹریل گروتھ پر کچھ حد تک دباؤ برقرار رکھتا ہے۔ اس فیصلے کے عام کاروباری طبقے اور جی ڈی پی نمو پر اہم اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

عام کاروباری طبقے اور انڈسٹری پر اثرات

معاشی ماہر ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ شرح سود 11.50 فیصد پر قائم رہنے کا مطلب ہے کہ تجارتی بینکوں سے ملنے والے کمرشل اور ورکنگ کیپیٹل لونز بدستور 13 سے 15 فیصد کے لگ بھگ مہنگے رہیں گے۔ اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے لیے نیا قرض لے کر کاروبار پھیلانا دشوار ہوگا۔

پیداواری لاگت اور مسابقت

صنعتوں کے لیے خام مال خریدنے اور آپریشنل اخراجات کے لیے شارٹ ٹرم فنانسنگ مہنگی رہے گی، جس سے مقامی بازار میں مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ اور عالمی منڈی میں مقامی برآمد کنندگان کی مسابقت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

کاروباری اعتماد اور تسلسل

ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ دوسری جانب، شرح سود میں ناگہانی اضافے کے بجائے اسے مستحکم رکھنا تاجروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہوتا ہے۔ اس سے کاروباری طبقہ آئندہ مہینوں کی فنانشل پلاننگ اور بجٹ سازی زیادہ اعتماد کے ساتھ کر سکتا ہے۔

مجموعی معاشی نمو پر اثرات

جب تک شرح سود سنگل ڈیجٹ میں نہ آئے، بڑے صنعتی منصوبوں اور نئی فیکٹریوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہتی ہے۔ شرح سود برقرار رہنے سے کنزیومر فنانسنگ پر مارک اپ بلند رہے گا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں خریداروں کی طرف سے بڑی خریداریوں کی طلب سست رہے گی۔

مہنگائی پر قابو بمقابلہ جی ڈی پی کی رفتار

معاشی ماہر جنید خان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کی پہلی ترجیح مہنگائی کو 5.5 فیصد کے ہدف کے قریب اور زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنا ہے۔ شرح سود کو اس سطح پر رکھ کر معیشت کو اوور ہیٹ ہونے سے روکا جا رہا ہے تاکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نہ بڑھے، اگرچہ اس کی قیمت جی ڈی پی کی رفتار سست رہنے کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں کمی نہ کرنے کی وجہ مستقبل کے خدشات ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنا معاشی استحکام اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم کاروبار کو تیزی سے پھیلانے اور تیز تر جی ڈی پی گروتھ حاصل کرنے کے لیے صنعتی طبقہ آنے والی مانیٹری پالیسیوں میں شرح سود میں مزید کمی کی توقع رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

راولاکوٹ دھرنے میں ٹی ٹی پی اور ایکشن کمیٹی کا مبینہ گٹھ جوڑ، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان