پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار و لکھاری سید محمد احمد نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں متعدد لکھاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے 26 اقساط پر مشتمل ڈرامے تحریر کر رہے ہیں جبکہ پروڈیوسرز اسکرپٹس میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کر کے اصل لکھاریوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
سید محمد احمد نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں باصلاحیت لکھاری موجود ہیں تاہم پروڈیوسرز اکثر ریٹنگ اور وائرل مواد کی خاطر ان کی تحریروں میں من مانی تبدیلیاں کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے ایک ڈرامے کی 17 اقساط مکمل ہو چکی تھیں لیکن انہیں 11ویں قسط کے بعد کا تمام مواد حذف کرنے کا کہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسکرپٹ رائٹرز کو اپنی تحریروں پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا اسی لیے انہوں نے خود بھی پروڈیوسرز کو اپنی تحریروں میں تبدیلی کی اجازت دے رکھی تھی کیونکہ اگر بار بار وضاحت کے باوجود بھی ان کی سوچ سمجھ میں نہ آئے تو پھر وہ خود ہی اسکرپٹ میں رد و بدل کر لیتے ہیں۔
سید محمد احمد نے دعویٰ کیا کہ آج کل کئی لکھاری مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈرامے لکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے مکالمے مقامی زبان، ثقافت اور معاشرتی انداز سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک معیاری ڈرامہ لکھنے میں انہیں تقریباً 10 سے 11 ماہ لگتے ہیں اس لیے ایک ہی وقت میں کئی ڈرامے تحریر کرنا انسانی طور پر ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رہنما پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی نے پہلا ڈراما کب کیا اور ایک ڈرامے کے بعد اداکاری کیوں چھوڑ دی؟
انہوں نے مزید کہا کہ انڈسٹری میں غیر تسلیم شدہ محنت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں بعض سینئر لکھاری اپنے شاگردوں سے اسکرپٹ لکھواتے ہیں یا کانٹینٹ ٹیمیں AI سے تیار شدہ اسکرپٹس میں ترمیم کرتی ہیں مگر ان افراد کو کریڈٹ نہیں دیا جاتا کیونکہ پروڈکشن ہاؤسز کے لیے معروف نام زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
سید محمد احمد نے کہا کہ معاشی مجبوریوں کے باعث بہت سے لکھاری اس صورتحال کو قبول کر لیتے ہیں تاہم انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مزید ڈرامے نہیں لکھیں گے کیونکہ وہ ساس بہو کے تنازعات اور منفی موضوعات پر مبنی کہانیاں تحریر نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس اور ایمازون پر، احسن اقبال کے بیان پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟
انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ایک اہم موضوع پر ڈرامہ تحریر کیا تھا لیکن کسی پروڈیوسر نے اس میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ ان کے مطابق اگر وہ ڈرامہ نشر ہوتا تو معاشرے کے کئی حساس پہلو بے نقاب ہو جاتے۔
گفتگو کے اختتام پر سید محمد احمد نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے مستقبل میں ان کا یہی خیال کسی دوسرے لکھاری کے ذریعے ڈرامے کی شکل میں پیش کر دیا جائے اور اگر ایسا ہوا تو لوگ انہیں ضرور یاد کریں گے۔














